Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

تاریخِ ازہر مختلف ادوار میں

د /محمدعبدالعزیزخضر

جامعہ ازہر کا شمار فاطمی حکمرانوں کی ابتدائی تعمیرات میں ہوتا ہے۔ اور یہ پہلی مسجد جس کی تعمیر قاہرہ میں جوہر الصقلی نے کی تاکہ فاطمی حکومت کی دار الخلافہ کا تعین ہو۔ جورہر نے اس کی تعمیر 24 جماد الاولی 261ھ / 4 اپریل 975ء میں شروع کی۔ جب اس کی تعمیر مکمل ہوئی تو نماز کے لئے مسجد کو کھولا گیا اور وہ 7 رمضان 357ھ / 22 جون 971ء کا دن تھا ۔

جامعہ ازہر کی تعمیر کے کچھ سالوں بعد ہی اس میں تعلیمی سرگرمیاں شروع ہوگئیں ۔ اس جامعہ میں شیعہ مذہب کے مطابق تعلیم وتدریس کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔ جب ایوبی مصر کے حکمران بنے تو انہوں نے مذہبِ سنی پر تعلیم وتدریس شروع کردی۔ اسی طرح ممالیک کے عرصہ حکمرانی میں بھی ازہر کو بڑی تقویت ملی۔ اس عرصہ میں نئی تعمیرات شروع ہوئیں اور کئی مدارس کا ازہر سے الحاق کردیا گیا۔ عہدِ عثمانی میں بھی ازہر شریف خلفاء کی عنایات کا مرکز بنی رہی، انہوں نے تعمیر وتزئین کا نیا دور شروع کیا ، اس وقت عمارت میں توسیع کی گئی، اور تعلیمی اداروں کا الحاق بھی کثرت سے ہوا، جس کی وجہ سے علماء اور طلبہ کی کثرت نے جامعہ ازہر سے رجوع کیا، اس وقت تعلیمی نصاب مدت کے تعین کے بغیر ہوا کرتا تھا جس میں لکھنا پڑھنا، حساب وکتاب، حفظِ قرآن وغیرہ شامل ہوتا تھا۔ اس کے بعد طلبہ علماء کے حلقہ جات سے جڑے رہتے تھے، اور جس حلقہ علم سے ان کی دلی ترغیب ہوتی اس سے استفادہ کرتے تھے۔ طلبہ علوم شرعی میں فقہ، تفسیر، حدیث ، توحید  اور منطق بھی پڑھائی جاتی تھی جس میں خاص طور پر عربی زبان کی صرف ونحو، بلاغت ، ادب اور عروض بھی شامل ہوتا تھا۔

ازہر شریف میں شیخ الازہر کا منصب عثمانی دور سے پہلے نہیں تھا۔بلکہ اس کا ایک نگران ہوتا تھا جو وہاں کے مالی اور ادارتی معاملات کے علاوہ علمی ضروریات کی نگہ داشت کرتا تھا۔

علماء تاریخ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ شیخ الازہر کے سلسلہ کے پہلے عالم الشیخ محمد عبد اللہ الخرشی المالکی تھے، جن کی وفات سن 1151ھ/ 1690ء میں ہوئی اور سال 1239ھ/ 1911ء میں قانون “1”مقرر ہوا کہ  جس کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے “مجلس کبار علماء” قائم ہوئے جس میں زیادہ سے زیادہ تعلیمی مدت کا تعین ہوا جو 15 سال تھا، جس میں تین مراحل رکھے گئے جن میں سے ہر مرحلے کا اپنا نصاب اور نظام مقرر کیا گیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس میں تعدیل وتبدیل بھی کی گئی۔ بعد ازاں ابتدائی تعلیم چار سال مقرر کی گئی اور “الاعدادیہ”کے نام سے موسوم ہوا۔ دوسرا مرحلہ ثانویہ تھا جس میں تین اقسام / کلیات تھیں ؛ اصول الدین/ شریعہ/ اور عربی زبان۔ پھر ایک قانون نمبر 153 سن 1961ء  میں جاری ہوا  جس کی تحت جامعہ ازہر کو سب سے بڑی یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا جس میں قدیم علوم کے ساتھ طب، انجنیئرنگ اور میڈیسنز کے شعبہ جات بھی شروع ہوئے۔ ۔۔

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment