Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

اس نے تمھارے لئے دین کو تنگی کا باعث نہیں بنایا

فقھی اختلاف میں تنوع کا اختلاف ہے تناقض کے لحاظ سے اختلاف نہیں۔

ڈاکٹر عمر عبد الفتاح

ترجمہ ڈاکٹر احمد شبل

سب سے پہلے ہم تنوع اور تضاد کے درمیان اختلاف کو واضح کریں گے۔

تنوع کا اختلاف وہ ہے جس کو جمع کرنا ممکن ہو چاہے ایک ہی جانب سے ہی ہو اس کلام کا کیا مطلب ہے؟

یعنی یہ سب اقسام اصل میں مشترک ہوتی ہیں۔

یا یہ اصل واحد کی طرف لوٹتے ہیں اور یہ ایک ہاتھ ی انگلیوں کی طرح ہیں سب سے چھوٹی خنصر کہلاتی ہے اس کا ایک وظیفہ ہے اس کے بعد والی بنصر ہے اس کا وظیفہ مختلف ہے

اور ان کا حجم اور وظیفہ مختلف ہو انہیں میں ایک چیز جمع  ہو سکتی کہ وہ ایک ہاتھ کی انگلیاں ہیں اور ان کو جمع کرنا ممکن ہے پس اصل مجموعہ یہ ہے جس کو ہاتھ کا نام دیا جاتا ہے۔

مثلا ایک ورق ہے اس سے کاپی، اخبار، کتاب، صحیفہ، مجلہ

ہیں سب کا کام مختلف ہے لیکن ایک چیز ان میں جمع ہے کہ وہ سب ورق سے ہیں اس میں لکھا جاتا ہے یا اس سے پڑھا

جاتا ہے۔

جہاں تک تناقض کی بات ہے تو اس میں ایک طرف سے بھی جمع کرنا ممکن نہیں ہوتا جیسے زندگی اور موت انسان کے حالات سے ایسی دو حالتیں ہیں کہ کبھی بھی ان کو جمع نہیں کیا جا سکتا پس انسان یا تو زندہ ہے یا مردہ۔

اسی طرح  حرکت اور سکون چیزوں کی دو ایسی حالتیں ہیں

کہ ان کو کبھی جمع نہیں کیا جا سکتا چیز یا تو متحرک ہو گی یا ساکن ان دونوں میں کوئی واسطہ نہیں اور دروازہ یا بند ہو گا یا کھلا نہ ان دونوں میں کوئیواسطہ ہے اور نہ ان میں کچھ مشترک ہے۔

فقھاء کا اختلاف پہلی نوع سے اس طرح ہے کہ ممکن ہے تم اسےمباح قرار دو اور آسانی سےقبول کر لو لیکن یہ قبول اس صورت میں ہو گا جو ان اقوال میں روابط کو جانتا ہو گا اور وہ علماء ہیں۔

عام لوگوں میں سے بعض یہ سن کے حیران ہوتے ہیں کہ امام شافعی اس فعل کو مکروہ قرار دیتے ہیں اور امام مالک کے نزدیک مباح ہے ان کا تعجب تب زائل ہوتا ہے جب ان کے لئیے ان اقوال میں روابط معلوم ہوتے ہیں۔

امام شافعی فعل کو اس جہت سے دیکھتے ہیں جس سے امام مالک نہیں دیکھتے، یا کسی اور حال سے یا کسی اور شخص سے یا کسی اور زمان میں۔

تو تم تعجب نہ کرو جب اللہ تعالی کے قول ”وہ اللہ کی نعمتوں کو پہچانتے ہیں پھر ان کا انکار کرتے ہیں اور ان میں سے اکثر کافر ہیں“

اکثر ایسے اقوال ہیں مفسرین رحمھم اللہ نے جن کو اس آیت کی تفسیر میں ذکر کیا وہ سب درست ہیں ان میں تناقض نہیں

کیونکہ وہ سب اللہ تعالی کی نعمت میں داخل ہیں اور وہ سب اس نعمت کی مثال میں ذکر ہوتے۔

پس فسرین کے اقوال میں تناقض نہیں ان کا ادھر اختلاف تنوع کے لحاظ سے ہے تضاد نہیں کیونکہ ایک آیت میں بہت سے معانی پاۓ جاتے اور ہر  مفسر ان معانی میں سے معنی اخذ کرتا ہے جب تو ان کو جمع کرے گا تو وہ سب معانی شامل ہوں گے جو ان سب نے کہا۔

ان میں سےکسی نے کہا:

إن ”نعمة اللہ“ یہ نبي ﷺ‎ کی بعثت ہے اور کسی نے کہا ”نعمت اللہ“ یہ اس سورت میں نعمتوں کی اصناف ہوں گی۔

مفسرین کے اس مقبول اختلاف کی صوتوں سے مراد اللہ تعالی کے قول  ”حبل اللہ“ میں ”کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ پیدا نہ کرو“

اس میں چھ مختلف اقوال ہیں اور یہ سب مقبول ہیں۔

پس کہا گیا ہے کہ اللہ تعالی کی رسی سے مراد ”کتاب اللہ“ ہے

اور وہ قرآن کریم ہے

دوسرا یہ کہ اس سے مراد ”جماعت“ ہے۔

تیسرا اس سے مراد ”اللہ کا دین ہے“ اور وہ اسلام ہے۔

چوتھا اس سےمراد اللہ کا عہد ہے پانچواں اس سے مراد ”اخلاص“ ہے۔

چھٹا مطلب یہ کہ ”اللہ کی اطاعت مراد ہے“ رسی سے مراد آیت میں یہ اختلاف ہے اور یہ اختلاف تنوع ہے تضاد کے لحاظ سے اختلاف نہیں یہ سب معنی قریب ہیں۔

امام قرطبی اور ابن جوزی رحمھما اللہ نے کہا:

اے محترم پڑھنے والے بھائی!

کسی چیز پہ حکم لگانے میں جلدی نہ کرو جب تک تم پہ واضح نہ ہو جاۓ۔

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment