Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

اچھی اور بری عادات

دکتور: خالد عبدالرزاق

ترجمة ڈاکٹر احمد شبل

اسلام کی عظمت میں سے ہے کہ لوگوں کے معاملات آسان کئیے ہیں اور ان کی طبیعت اور مختلف احوال کا خیال رکھا ہے اور اسلام نے لوگوں کو ان کی عادات کی آزادی کے معاملے میں ان کو وسعت دی جو ان کو اپنے آباؤ اجداد سے ملی ہیں۔

لوگوں کی طبیعت، اسلوب اور معاشرے کے ساتھ ان کی عادات بھی مختلف ہیں مثلا کھانا پینا، اسلوب اور ماحول کا اختلاف سب مختلف ہیں مثلا صحراء کے رہنے والے ان کی عادات ان کے معاشرے کے مطابق ہوتی ہیں اور شہر میں رہنے والوں کی مختلف ہیں اور گرم علاقے میں رہنے والے اپنی عادات میں سرد علاقے میں رہنے والوں سے مختلف ہیں لہذا ہر دین کے لوگوں کے طبائع و عادات دوسرے عقائد سے مختلف ہوتے ہیں ۔

یہ عادات زندگی میں رونما ہونے والے مختلف قسم کے واقعات

کی عکاسی کرتے ہیں مثلا خوشی و غم، کھانا اور پینا، شادی اور طلاق اور خریدو فروخت وغیرہ

اسلام نے لوگوں کو مناسب اختیارکرنے کی آزادی دی ہے لیکن یہ عادات شریعت کے مطابق ہوں اور اس کے منافی نہ ہوں اور کسی محرم کا ارتکاب نہ ہو تو یہ عادت حسن کہلاۓ گی اس پہ کرنے والے کو ثواب ملے گا اور بعد میں آنے والے بھی اجر کے مستحق ہوں گے اور اس میں تسابق اور ترقی کے دروازے ہر زمانے میں کھولنے چاھئیں جو بعد کے لوگوں کے لئیے ترقی کا سبب بنیں مثلا معاشرہ کا احترام، ایک دوسرے کے ساتھ تعاون

محتاجوں کی مدد، رشتہ داری ملانا، یتیموں کا خیال رکھنا اور شعائر دینیہ کی ترغیب دینے کی اسلام نے راہنمائی کی۔

اگر کوئی عادت اسلام کے مطابق نہ ہو جیسے اسراف، خود کو یا دوسروں کو ضرر دینا اور محرمات کا ارتکاب وغیرہ جو اس کو ایجاد کرتا ہے اس کو بھی گناہ ہے اور عمل کرنے والے کو بھی گناہ ہو گا اسلامی معاشرے کی کچھ عادات ہیں جو مقاصد دین کے موافق ہیں اور جن کی وجہ سے مودت و رحم پیدا ہوتا ہے اور مغرب کی کچھ عادات ہیں جو ہمارے دین کے ساتھ نہیں ملتیں ان کا ہمارے دین اور مقاصد دینیہ کے ساتھ ذرا توافق نہیں اور نہ ہمیں ان کی ضرورت ہے اللہ تعالی نے فرمایا

”آج کے دن میں نے تمھارا دین مکمل کر دیا اور تم پہ اپنی نعمت پوری کر دی اور اسلام کو بطور دین تمھارے لئیے پسند کر لیا“

اور رسول ﷺ نے فرمایا:

((وہ مومن ہے جو اللہ تعالی کے رب، اسلام کے دین ہونے پہ اور محمد ﷺ کے رسول ہونے پہ راضی ہو گیا))

پس ہمیں ان کی عادات کی ہر گز حاجت نہیں جو ہمارے دین اخلاق اور عادات کے مخالف ہوں۔

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment