Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

والدین کا شکر ادا کرنا

ڈاکٹر محمدی عبدالبصیر

ترحمہ ڈاکٹر: احمد شبل الازھری

قرآن کریم ہمیں عمدہ اخلاق کی تعلیم دیتا ہے، اور ہمیں جنت کے باغیچوں میں لے کے چلتا ہے، اور ہمیں تہذیب و اخلاق کی تربیت دے کر ایسی مبارک گود میں لے کے جاتا ہے جو والدین کی گود ہے۔

اللہ کا فرمان ہے: ”کہ میرا اور اپنے والدین کا شکر ادا کرو“

والدین کے بڑے بھاری کردار اور عظیم فضل کا حقیقی بدلہ چکانے سے ہم قاصر ہیں۔

اور جتنی انسان استطاعت رکھے تو اپنے والدین کا شکریہ ادا کرے جو انہوں نے بچپن میں اس کی پرورش کی اور قرآن کریم عملی خطوات میں اس کا شکر ادا کرنے کی تشریح کرتا ہے جو انسان کو یہ کرنے میں مدد دیتا ہے اس شکر کا عنوان

”وبالوالدین إحسانا“ اس احسان کی مہم علامات یہ ہیں:

بغیر انقطاع کے اس کو جاری رکھنا اور اس کی حفاظت کرنا، خاص طور پہ جب اس کی ضرورت ہو، نہ صرف بڑھاپے کہ بعد ہی، اللہ عزوجل کا فرمان: ”چاھے وہ دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں یا ان میں سے ایک“

ان پہ احسان اور شکر کی صورت یہ ہو گی:

اچھا اسلوب اختیار کرنا جو نفس کو آرام پہنچاۓ اور دل کو پرسکون کردے

رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم کرنے والا فرماتا ہے

”ان دونوں کو اف تک نہ کہو نہ انہیں جھڑکو“ یعنی اولاد کو

ہر اس تنگی سے دور رہنا چاھئیے جو والدین پہ گراں گزرے، اور جسکو بیٹا بہت سہل محسوس کرے حتی کہ صرف اف کہناایسی آواز جو مشکل سے سانس لینے کی طرح ہو

تو ہمارا کیا حال ہو گا جو بری آواز اور سخت بات کہتے ہیں۔۔۔؟

ایسا کام جو دل کو محبت و جذبات سے بھرپور کر دے یہاں تک کہ ہر متفرق  درست ہو کر آپس میں مل جاۓ یا کوئی فارغ

اور خوف سے بھرا ہو کہ بیٹے نے مختلف ایسے اقوال و افعال کا ارتکاب کیا۔

قرآن کریم نے کتنی خوبصورت انداز سے ایک جملے میں بیان کیا”اور ان کو مت جھڑکو“

اور جھڑکنے سے مراد ایسی ڈانٹ جو والدین کے دل پہ ایسی چیز لگانا جو ان کو اتنی سخت لگے اور وہ مایوسی، غم کے آنسؤوں کا اور غصے کا سبب بنے یہ والدین کے ساتھ معاملے میں سب سے قبیح صورت ہے جس کے ادوات اف کرنا اور جھڑکنا ہے۔

یہ اس کے لئیے تنبیہ ہے جو والدین کے ساتھ ایسا ٹیڑھا سلوک کرے، جہاں تک عمدہ اچھے سلوک کی بات ہے تو وہ احسان کرنے والے کے ساتھ احسان کرنا ہی ہے، اور لغت میں شکر سے مراد تاکید ہے کہ جو بھلائی آپ کو والدین کی طرف سےپہنچی

تو آپ پہ لازم ہے کہ آپ اس نیکی کا بدلہ نیکی ہی پیش کرو، اور نیکی شریعت میں بھی یہی ہے کہ خوبصورت کو خوبصورت ہی لوٹایا جاۓ ہمارا رب اور ولی فرماتا ہے:

”اور دنیا میں ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو“

تو کیا انسان کے لئیے ممکن ہے کہ وہ اپنے نفس کے ساتھ کوشش کر کے اف والی صورت کو تبدیل کرے اور وہ اس ھئیت کو بدلے اور خوبصورت چہرے سے خوبصورت بات کرے، یہی کامیابی ہے یہی ایسا پھل ہے جو اس صورت کو تبدیل کر کے

والدین کے ساتھ عمدہ سلوک کرنے کے درجے تک پہنچاۓ گا

قرآن کریم نے اس کی وضاحت کچھ یوں کی۔

”ان دونوں سے عمدہ بات کہو“ یعنی وہ جس کا اچھا معنی ہو اور محبت ظاہر ہو، اور والدین کے دل کو خوشی و سرور سے بھر دے۔

رحم کرنے والا سلوک، قرآن کریم کے عمدہ اور رحیم سلوک کو دیکھو انعامکرنے والے رب کی نعمتوں پہ غور کرو”ان کے لئیے رحمت کے ساتھ بازو بچھا دو“

اے بھائی!

اس صورت میں شاندار لغت اور حسی صورت میں معانی کا اخراج جو والدین کےلئیے عمدہ سلوک کا حکم دیتا ہے، یہاں تک کہ ایک عمارت کے ادوات میں قرآن کے شیرینی بیان کو محسوس کیا جارہا، یہ صورت اور تخلیقی چارٹ ایسے لوگوں کے ساتھ اختیار کرنا ہے جو لوگوں میں سے تم پر سب سے زیادہ کریم اور محبت کرنے والے ہیں، تم غور کرو تو سمندروں کی سیاہی ختم ہو جاۓ اس سے پہلے کہ قرآنی جواہر کے معانی ختم ہوں (اور ان کے لئیے رحمت کے بازو بچھا دو)

یہ ایسی تحریک ہے جو ضبط تنظیم کی محتاج ہے

والدین کے ساتھ مساوی سلوک کرنا، اس کے ساتھ ایسی قوت

اور اس مطلوب کو ادا کرنے کی استعداد اور اس کے لئیے محبت بھرا انداز جو تم نے ان سے لیا، تم پہ لازم ہے جو رحمت کے ساتھ لوٹاؤ جیسے بچپن میں تم پہ پتوں سے سایہ کیا اور شفقت اور پاکیزہ پھلوں سے تمھیں کھلایا۔

تمھیں چاھئیے کہ تم ذوق میں شفاف اور خوبصرتی میں محبت والا سلوک کرو جو محبت کے سمندر میں چمکتے معانی ، شوق بھرے آنسو، منور دلوں کے ساتھ تیرے جو مادی اور ٹیڑھی حدود کو تجاوز کرے اور تم رحمت کے پروں پہ تیرو

عمدہ قول اور رحمت کے پروں پہ چڑھتے جاؤ اور خوبصورت شاھد ومشھود دنیا کو اور ایمانی حقائق کو دیکھو جو نہ فنا ہوں گے اور نہ ختم۔۔

زبان اس حال میں ہو کے دعا کرتی رہے

”اے میرے رب ان دونوں پہ ایسے رحم کرنا جیسے انہوں نے بچپن میں مجھ پہ رحمکیا“

تو کیا تم ابھی تک چھوٹے ہی ہو۔۔۔؟

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment