Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

آزادی اظہار رائے اسلام کی روشنی

دكتور: محمد الراسخ

ترجمة د. أحمد شبل الأزهرى

دین اسلام نے انسان کو جن بنیادی حقوق سے نوازا ہے ،ان میں سے سرفہرست آزادی اظہار رائے کا حق ہے۔جو انسان بھی ہمارے دین حنیف میں غور وفکر کرتا ہے تو اسے نظر آتا ہے کہ دین اسلام نے عقل انسانی کو ایک خاص اہمیت دی ہے۔اور اس کا دائرہ بہت وسیع رکھا ہے تاکہ انسان پوری آزادی کے ساتھ غور وفکر کرسکے۔دین اسلام کی تعلیمات عقل سے  کسی بھی لحاظ سے  متصادم نہیں  اور اس کی بہت سی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔ان میں سے ایک یہ ہے کہ جو انسان بھی قرآن پاک کی آیات میں غور کرتا ہے تو اسے نظر آتا ہے کہ قرآن نے عقل کو نہ صرف قابل تعریف الفاظ میں ذکر کیا ہے بلکہ عقل کو استعمال کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:

انظُرُوا مَاذَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ(یونس:101) ترجمہ: کہہ دو دیکھو کہ آسمانوں اور زمین میں کیا کچھ ہے۔

اسی  طرح ایک  اور مقام پر ارشادِ خداوندی ہے:  أَوَلَمْ يَتَفَكَّرُواْ فِىٓ أَنفُسِهِم(الروم:8) ترجمہ: کیا وہ اپنے دل میں خیال نہیں کرتے۔

اور اسلام کے عقل انسانی کے احترام پر مزید یہ بات بھی دلالت کرتی ہے کہ اسلام نے انسان کو اپنے عقیدے کے انتخاب کا اختیار دیا ہے اور جو عقیدہ اس نے اختیار کیا ہے،اسے اس کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

إِنَّا هَدَيْنَٰهُ ٱلسَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا(الانسان:3) ترجمہ: بے شک ہم نے اسے راستہ دکھا دیا، یا تو وہ شکر گزار ہے اور یا ناشکرا۔

ایک اور مقام پر اللہ پاک نے فرمایا:وَهَدَيْنَاهُ النَّجْدَيْنِ(البلد:10) ترجمہ: اور ہم نے اسے دونوں راستے دکھائے۔

جہاں دین اسلام نے عقل انسانی کے استعمال کا حکم دیا ہے وہیں عقل انسانی کو اباؤاجداد کے ان  عقائد،رسوم ورواج  کی اندھی تقلید  سے آزاد ہونے کی ترغیب بھی دی ہے،جن   عقائد،رسوم ورواج  کا اللہ پاک حکم نہیں دیا۔اس بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا مَا أَنزَلَ اللَّهُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا أَلْفَيْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا ۗ أَوَلَوْ كَانَ آبَاؤُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ شَيْئًا وَلَا يَهْتَدُونَ(البقرۃ:170)

ترجمہ: اور جب انہیں کہا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کرو جو اللہ نے نازل کیا ہے تو کہتے ہیں بلکہ ہم تو اس کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا، کیا اگرچہ ان کے باپ دادا کچھ بھی نہ سمجھتے ہوں اور نہ سیدھی راہ پائی ہو؟

 دین اسلام  جہاں آزادی اظہار رائے کے حق کو انسانوں کے لیے لازم قرار دیتا ہے،وہیں اختلاف اور مختلف نقطہ ہائے نظر کے سامنے آنے کی صورت میں کچھ ایسے اصولوں کو ضروری قرار دیتا ہے جن کی بنیاد پر دوسروں کی رائے کو احترام سے سنا جائے  اور ان کے آزادی اظہار رائے کے حق  کو تسلیم کیا جائے، دوسروں کی رائے کو سننے کے حوالے سے اپنے سینوں کو کشادہ کیا جائےاور اس کے ساتھ ساتھ صرف اور صرف اپنے حق پر ہونے کے خیال کو ترک کیا جائے۔یعنی یہ مت سمجھا جائے کہ صرف اور صرف میں ہی حق پر ہوں اور دوسرا انسان یا دوسرے انسان  سرے ہی سے غلطی پر ہیں۔یہ اس بڑی خرابی کی جڑ ہے جس سے اسلام منع کرتا ہے کیونکہ اس سے تفرقہ پھیلتا ہے اور مسلمان گروہوں میں بٹ جاتے ہیں۔اور یہی وہ خرابی کی جڑ ہے جس کی وجہ سے تکفیریت اور ایک دوسرے کے خون کو حلال قرار دینے کا دروازہ کھلتا ہے۔بلاشبہ یہ ایک بہت بڑی خرابی ہے اور اس سے ہمارے اسلاف نے سختی کے ساتھ اپنے قول و فعل کے ذریعے سے منع کیا ہے۔اور بتلایا ہے کہ کیسے دوسرے کی اختلافی رائے کا احترام کیا جاتا ہے۔جیسے کہ امام مالک رحمہ اللہ ے بارے میں آتا ہے کہ وہ کسی بھی سوال کے جواب میں اپنی رائے پیش کرتے تو آخر میں کہتے»ہم تو گمان ہی کرتے ہیں اور یقینی طور پر کچھ نہیں کہتے» اسی طرح امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے تھے»میری رائے درست ہے لیکن اس میں غلطی کا احتمال ہے اور میرے مخالف کی رائے غلط ہے لیکن اس کے درست ہونے کا احتمال ہے۔»

 

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment