Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

معاشرے میں درگزر کرنا اور رہن سہن

ڈاکٹر خالد عبد الرازق الازھری

ترجمۃ ڈاکٹر: احمد شبل الازھری

اسلام میں عبادات مسلمان کو دو طرح سےنفع مند ثابت ہوتی ہیں۔

اول: شخصی یا انفرادی طور پہ نفع؛ کہ انسان کو اپنے نفس کے تقاضوں میں نفع دیں تو اس کے اپنے نفس میں عبودیت کا معنی متحقق ہو، وہ اپنے رب سے صلہ مضبوط رکھے، اپنے خالق سے تعلق کو قوی بناۓ اور اپنے نفس کومہذب بناۓ اور اس کی تربیت کرے۔

ثانی: اجتماعی نفع: وہ یہ ہے کہ وہ سب عبادات حتی کے جو انفرادی عبادت ہیں وہ بھی اجتماعی شکل میں ادا کی جاتی ہیں۔

جماعت کے ساتھ نماز اکیلے نماز سے ٢٧ درجے افضل ہے اور زکاة کا نصاب مقدار اور وقت مقرر ہے، رمضان میں صدقہ فطر کا وقت بھی محدد ہے، حج کے مواقیت زمانی اور مکانی ہیں اور اس کے شعائر جو اجتماعی صورت میں اس کےوقت میں ادا کئیے جاتے ہیں اسی طرح روزہ جسکے لئیے رمضان کا مہینہ خاص ہے جو رؤیت ھلال سے شروع ہوتا ہے اور اس کی رؤیت پہ ہی ختم ہوتا ہے، روزے کے اوقات دن میں مقرر ہیں جو سورج طلوع ہونے سے لے کر غروب ہونے پہ ختم ہو جاتے ہیں۔

اجتماعی عبادات کی ادائیگی میں یہ وصف ہے اسی لئیے اجتماعی عبادات کے فوائد شمار نہیں ہو سکتے:

یہ انسان کو زائد قوت ملتی ہے اور اس ک چستی میں مزید اضافے کا سبب بنتی ہے یہاں تک کہ اس کو اس شخص سے تشبیہ دی جاتی ہے جو نہر میں ہواؤں کے عکس پہ تیرتا ہے اور کوئی شک نہیں کہ اس کی حرکت اس سے زیادہ تیز ہوتی ہے اور کشتی کی طرح جو ہوا کی سمت کے ساتھ چلتی ہے اور ہوا اس کو اضافی رفتار مہیا کرتی ہے۔

اسی طرح جماعت میں انسان کو قوت و نشاط اور پختہ ارادہ ملتا ہے جب وہ اپنے اردگرد دیکھتا ہے کہ چھوٹا بڑا، طاقت ور اور ضعیف سب روزے سے ہیں تو اس سے سستی و کاہلی دور ہوتی ہے اور روزے کے بارے اللہ عزوجل کا فرمان ہے کہ وہ ہم سے پہلے لوگوں پہ بھی فرض تھے۔ ارشاد ربانی ہے:

”اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کر دئیے گئے جیسے تم سے پہلے لوگوں پہ فرض کئیے گئے تھے تاکہ تم پرہیز گار بن جاؤ“ ١٨٣

مسلمان کو چاھئیے کہ وہ اجتماعی صورت میں دو امور کو مدنر رکھے۔

اول: لوگوں کو ایذاء دینے سے اجتناب کرے اور حالت صوم اور عبادت میں دوسرے روزہ رکھنےےوالے افراد کو ایذا کی بجاۓ ان کے لئیے آسانی کرے اور امن و طمانیت کی فضا پیدا کرے اور اپنے آپ کو ان امور کا عادی بناۓ جن سے روزے کا مقصد پورا ہوتا ہے تو ایسی بات نہ کہے جو دوسرے کو نفع کی بجاۓ تکلیف دے، چیخ کے بلند آواز سے بات نہ کرے جاھلانہ گفتگو نہ کرے کسی دوسرے پہ زیادتی نہ کرے یہاں تک کہ اگر کوئی اسے برا بھلا کہہ دے تو وہ اسے اسی طرح جواب نہ دے اور اپنے آپ کو یاد دلاۓ کہ وہ روزے سے ہے اور ہر بری چیز سے بچے جو اس کے عمل کے اجر کو ضائع کر دے، اسی طرح دوسرے کو یاد کراۓ کہ روزدار انسان کو چاھئیے کہ وہ روزے کی حرمت کا خیال رکھے۔

رسول اللہ ﷺ‎ نے فرمایا: ((روزہ ڈھال ہے تو نہ برابھلا کہو اور نہ جاھلانہ طریقے سے گفتگو کرو، اور اگر کوئی شخص اس سے لڑائی کرے اور گالی دے تو وہ کہے: دو مرتبہ کہے : میں روزے سے ہوں))

ثانی: رمضان کے مہینے میں لوگوں کو نفع پہنچانے کی کوشش کرنی چاھئیے۔

رمضان کو ہمدردی کا مہینہ کہا گیا، اور ہمدردی چاھے زیادہ عطا کر کے کی جاۓ یا کم، اور اچھی بات کہنا بھی ہمدردی ہے لیکن اس مہینے میں یہ ہمدردی روزے دار کو روزہ افطار کروا کے حاصل ہوتی ہے چاھے وہ کم مقدار میں کھانا ہو اگرچہ کہ دوددھ کا ایک گھونٹ یا پانی کا ایک چلو یا ایک کھجور سے۔ اس کا ثواب روزہ رکھنے والے کے اجر کی طرح ہے رسول اللہ ﷺ‎ نے فرمایا: ”جس نے کسی کو روزہ افطار کروایا اس کے لئیے ان کے اجر کی مثل ہے اور ان کے اجر سے کسی چیز کی کمی نہیں کی جاتی“

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment