Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

روزہ اور صبر

خالد عبد الرزاق الأزھری:

 ان دو مفہومات میں مضبوط علاقہ ہے جنہیں ہم درج ذیل نقاط میں جانیں گے۔

پہلا نقطہ:    رمضان کا فرض روزہ ہو یا  رمضان کے علاوہ نفلی ہو شہوات سے روکنے اور نفس کو جزع سے روکنے اور اللہ عزوجل اور اس کے رسول ﷺ‎ کے حکم پہ ثابت قدم رہنے کا ذریعة ہے۔

ثبات میں دو مفہوم ہیں اللہ تعالی کے اوامر اور نواہی میں اطاعت اور رسول ﷺ‎ کے اوامر اور نواہی میں اطاعت۔

دوسرا نقطة: صبر اور وزہ دونوں مومن کے نفس کو تھذیب و تربیت کرتے ہیں پس روزہ دار اپنے نفس کو مھذب بناتا ہے اور وہ ہر خواھش کے پیچھے نہیں چلتا کہ وہ اللہ کی اطاعت کو پس پشت ڈال دے بلکہ انسان اور اس کا نفس مکمل طور پہ اللہ سبحانہ وتعالی کی اطاعت میں ہوتے ہیں۔اسی طرح صبر انسانی نفس کی تھذیب و تربیت کرتا ہے اسے جزع فزع اور غصے سے روک اللہ تعالی کے کیۓ ہوۓ فیصلوں پر راضی رہنا  سکھاتا ہے۔اسی طرح اطاعات کرنے کی ان کی مشقات کو برداشت کرنا اور نافرمانیوں سے دوری اور ان کی لذتوں، شہوات اور خوبصورتی سے کنارہ کرنے کی تربیت کرتا ہے۔

تیسرا نقطہ: صبر اور روزہ دونوں اللہ تعالی کی اطاعت میں مشترک ہیں اللہ تعالی نے مومنوں کو روزوں کا حکم دیا تو کہا

”اے ایمان والوں! تم پر روزے فرض کر دئیے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پہ فرض کئے گئے تھے تاکہ تم متقی بن جاؤ“

سورة البقرة ١٨٣

اللہ عزوجل نے مومنوں کو صبر کا حکم دیا  ”اے ایمان والو صبر کرو اور صبر میں دشمنوں سے آگے رہو اور سرحد پر اسلامی ملک کی نگہبانی کرو اور اللہ سے ڈرو شاید کہ تم فلاح پاجاؤ“

چوتھا نقطہ: روزہ روزے دار شخص کو عمدہ اخلاق، معاف کرنا اور درگزر کرنا سکھاتا ہے نبی علیہ السلام نے فرمایا: روزہ ڈھال ہے اور جب تم میں سے کوئی روزہ رکھے تو وہ بدکلامی اور فضول گوئی اور شورشرابہ نہ کرے اور اگر کوئی اسے گالی دے یا جھگڑا کرے تو وہ کہہ دے میں روزے سے ہوں“

اسی طرح صبر عمدہ اخلاق اور معافی اور درگزر ک دعوت دیتا ہے اللہ تعالی نے فرمایا: ”اور جس نے صبر کیا اور معاف کر دیا بے شک یہ بڑے کاموں میں سے ہے“ الشوری ٤٣

پانچواں نقطہ: اللہ سبحانہ وتعالی نے صبر اور روزہ دونوں میں

خیر کا وعدہ کیا روزے کے بارے کہا” یہ کہ تم روزہ رکھو تو تمھارے لیۓ بہتر ہے اگر تم جان لو“ سورة بقرة ١٨٤

اور صبر کے بارے کہا ”یہ کہ تم صبر کرو تمھارے لئے سب سے بہتر ہے“

چھٹا نقطہ: صبر اور روزے کا مقصد  تقوی اختیار کرنا ہے روزے کے بارے فرمایا: ”اے ایمان والو تم پر روزے فرض کر دئے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پہ فرض تھے تاکہ تم پرہیز گار بن جاؤ“ سورة البقرة ١٨٣

اللہ عزوجل نے صبر کے بارے کہا: ”تکلیف اور تنگی اور جنگ کے وقت صبر کرنے والے یہی سچے اور متقی لوگ ہیں“ البقرة ١٧٧

ساتواں نقطہ: یہ دونوں خطاؤں کو مٹاتے ہیں اور گناہوں کا کفارہ ہیں نبی ﷺ‎ نے روزے کے بارے کہا” جس نے ایمان اور اجر کی امید رکھتے ہوۓ رمضان کے روزے رکھے اس کے سابقہ گناہ معاف کر دئیے جائیں گے“

صبر کے بارے اللہ کا ارشاد ہے ”مگر وہ لوگ جنہوں نے صبر کیا اور نیک اعمال کئے انہی کے لئے مغفرت اور بڑا اجر ہے“ سورة ھود١١

آٹھواں نقطہ: صبر اور روزہ دونوں شادی کی استطاعت نہ رکھنے والے کے لئے بدیل ہیں حدیث ہے” جو نکاح کی استطاعت رکھے وہ شادی کر لے بے شک وہ نظر کو نیچے رکھنے اور شرمگاہ کی حفاظت کرنے والی ہے اور جو اس کی استطاعت نہیں رکھتا تو وہ روزہ رکھے بے شک وہ اس کے لئے ڈھال ہے“

اللہ سبحانہ وتعالی نے صبر کے بارے فرمایا: ”یہ اس کے لئے ہے جو کوئی تم میں سے تکلیف میں پڑھنے سے ڈرے اور اگر تم صبر کرو تو تمھارے لیۓ سب سے بہتر ہے اور اللہ بہت مغفرت اور بخشنے والا ہے“

٩ نقطہ: صبر اور روزہ دونوں کا ایک دوسرے پہ اطلاق ہوتا ہے اور اس کے ساتھ اس کا وصف بیان ہوتا ہے رمضان کا مہینہ صبر کا مہینہ ہے ارشاد ہے ”صبر کا مہینہ اور ہر مہینے کے تین روزے سارا سال روزے کے برابر ہیں“

اللہ نے فرمایا ”صبر اور نماز کے ذریعے مدد طلب کرو اور یہ مومنوں کے علاوہ لوگوں پر بھاری ہے“

دسواں نقطہ: روزہ اور صبر جزاء میں ایک دوسرے کے متشابہ ہیں  دونوں کا اجر اللہ تعالی نے محدد نہیں کیا حدیث قدسی میں اللہ عزوجل نے روزے کی جزاء کے بارےفرمایا: ”روزے کے علاوہ بنی آدم کا ہر عمل اس کے لئے ہے بے شک روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا اجر دوں گا“

اور صبر کرنے والوں کی جزاء کے لئے اللہ تعالی نے فرمایا:”درحقیقت صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بغیر حساب کے دیا جاۓ گا“ سورة الزمر ١٠

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment