Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

ڈیجیٹل دنیا میں اخلاقیات کی تقویم

الدكتورة سوسن الهدهد

ترجمة الدكتور أحمد شبل

موجودہ دور میں ٹیکنالوجی مختلف صورتوں میں ظاہر ہوئی ہے لوگوں کی ضروریات کو آسانی کے ساتھ پورا کرنے کے لیے

اس کے باوجود کہ ٹیکنالوجی جدید طرز سے علم و معرفت کی خدمت کر رہی ہے معاشرے پر کچھ جدید چیلنجز بھی لاگو ہوتے ہوتے ہیں جو بڑا خطرہ بن سکتے ہیں مبادی اخلاقیات قیام دین اور انسانیت کے اعتبار سے اور اس کے خطرات کی مثال غیر اخلاقی صورتیں ہیں انٹرنیٹ کی دنیا میں مثال کے طور پر دوسروں کی خصوصیات کے ساتھ زیادتی دوسروں کی حفاظتی معلومات کا تجسس دوسروں کے ذاتی اور فکری حقوق پر ڈاکہ جھوٹ اور دھوکہ وغیرہ مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ انٹرنیٹ کی دنیا میں مبادئ اخلاق کو لازم پکڑیں بے شک اسلام ہر جگہ اور ہر  زمانے میں اخلاقیات کو لازم پکڑنے کی دعوت دیتا ہے اسی لیے خاندانوں اور معاشروں کی حفاظت اور توزن کے لیے اس کی بہت اہمیت ہے اسی لیے نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم نے اس کی بہت تاکید کی کہ آپ لوگوں میں اخلاقیات کو مکمل کرنے کے لیے مبعوث ہوئے ہیں جیسا کہ آپ صل اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے اور دوسری روایت کے الفاظ ہیں بہترین اخلاقیات کو لازم پکڑنا معاشروں کی اصلاح کرتا ہے اور دین اسلام نے ہر اچھے اخلاق کو اپنا زیور بنانے اور اپنے ابناء میں اس کو پروان چڑھانے پر زور دیا ہے اسی سے بہترین معاشرہ قائم ہوتا اور جو بیماریاں لوگوں کے استقرار کو تباہ کرتی ہیں سے پاک صاف ہوتا ہے جیسے جرائم فحاشی کا عام ہونا وغیرہ اور کسی کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ دوسروں کی خصوصیات پر ڈاکہ ڈالے یا ان کی حفاظتی معلومات کے حقوق پر ڈاکہ ڈالے یا ان کے راز اور چھپی ہوئی چیزوں کے پیچھے لگے ان کو جاننے کے لیے یا افشا کرنے کے لیے ہمارے دین حنیف نے اس سے منع کیا ہے جیسا کہ فرمان باری تعالٰی ہے

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ  اٰمَنُوا اجۡتَنِبُوۡا کَثِیۡرًا مِّنَ الظَّنِّ ۫ اِنَّ  بَعۡضَ الظَّنِّ   اِثۡمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوۡا وَ لَا یَغۡتَبۡ بَّعۡضُکُمۡ بَعۡضًا ؕ اَیُحِبُّ  اَحَدُکُمۡ  اَنۡ یَّاۡکُلَ  لَحۡمَ اَخِیۡہِ  مَیۡتًا فَـکَرِہۡتُمُوۡہُ ؕ  وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ  اللّٰہَ  تَوَّابٌ  رَّحِیۡمٌ ﴿۱۲﴾ 

 اے ایمان والو! بہت بد گمانیوں سے بچو یقین مانو کہ بعض بد گمانیاں گناہ ہیں  اور بھید نہ ٹٹولا کرو  اور نہ تم میں سے کوئی  کسی کی غیبت کرے  کیا تم میں سے کوئی بھی اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرتا ہے؟ تم کو اس سے گھن آئے گی  اور اللہ سے ڈرتے رہو ،  بیشک اللہ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے ۔ 

 اور آپ صل اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے ظن و گمان کے پیچھے پڑنے سے بچو یا بدگمانی سے بچو، اس لیے کہ بدگمانی سب سے بڑا جھوٹ ہے، نہ ٹوہ میں پڑو اور نہ جاسوسی کرو ۔

لسان عرب میں آیا ہے تجسست الخبر و تحسستہ کے ایک ہی معنی ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ تجسس کا معنی باطنی امور کی تفتیش یا دوسروں کے لیے خبریں لینا اور تحسس حا کے ساتھ کا معنی اپنے نفس کے لیے خبریں طلب کرنا اور جیم کے ساتھ کہا گیا ہے کہ چھپی ہوئی چیزوں کے پیچھے پڑنا اور حاء کے ساتھ معنی اپنے فائدے کے لیے حاصل کرنا جو بھی معنی ہوں مصطفی صل اللہ علیہ وسلم نے اس منع کیا اور یہ دونوں چیزیں شریعت کے مقاصد جو ستر پر مبنی ہیں کے منافی ہے آپ صل اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے اور جو شخص دوسرے لوگوں کی بات سننے کے لیے کان لگائے جو اسے پسند نہیں کرتے یا اس سے بھاگتے ہیں تو قیامت کے دن اس کے کانوں میں سیسہ پگھلا کر ڈالا جائے گا اور جو کوئی تصویر بنائے گا اسے عذاب دیا جائے گا اور اس پر زور دیا جائے گا کہ اس میں روح بھی ڈالے جو وہ نہیں کر سکے گا۔

اور آپ صل اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہےاے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو اپنی زبان سے اور حال یہ ہے کہ ایمان اس کے دل میں داخل نہیں ہوا ہے مسلمانوں کی غیبت نہ کرو اور ان کے عیوب کے پیچھے نہ پڑو، اس لیے کہ جو ان کے عیوب کے پیچھے پڑے گا، اللہ اس کے عیب کے پیچھے پڑے گا، اور اللہ جس کے عیب کے پیچھے پڑے گا، اسے اسی کے گھر میں ذلیل و رسوا کر دے گا ۔

جیسا کہ آپ صل اللہ علیہ وسلم نے اپنے مسلمان بھائی کو بلیک میل کرنے سے منع کیا یعنی اس کی اجازت کے بغیر اس کی تصاویر اور ویڈیوز لے یا کوئی اور معلومات اور اس کو ڈرائے یا بلیک میل کرے آپ صل اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے مسلمان کے لیے درست نہیں کہ وہ کسی مسلمان کو ڈرائے۔

اور سب کے لیے لازم ہے کہ وہ اسلام کی اخلاقیات کی طرف لوٹیں ڈیجیٹل دنیا ہو یا حقیقی دنیا ہر جگہ اخلاقیات کو لازم پکڑنا چاہیے اور فرد پر لازم ہے کہ وہ دوسروں کا احترام کرےاور ان کے افکار و آراء کا بھی لحاظ رکھے اور ان کی برائی کرنے اور مذاق اڑانے سے اجتناب کرے اللہ تعالٰی کا فرمان ہے یٰۤاَیُّہَا  الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا یَسۡخَرۡ قَوۡمٌ مِّنۡ قَوۡمٍ عَسٰۤی اَنۡ یَّکُوۡنُوۡا خَیۡرًا مِّنۡہُمۡ وَ لَا نِسَآءٌ  مِّنۡ  نِّسَآءٍ  عَسٰۤی اَنۡ یَّکُنَّ خَیۡرًا مِّنۡہُنَّ ۚ وَ لَا تَلۡمِزُوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ وَ لَا تَنَابَزُوۡا بِالۡاَلۡقَابِ ؕ بِئۡسَ الِاسۡمُ الۡفُسُوۡقُ بَعۡدَ الۡاِیۡمَانِ ۚ وَ مَنۡ لَّمۡ یَتُبۡ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿۱۱﴾

 

 اے ایمان والو! مرد دوسرے مردوں کا مذاق نہ اڑائیں ممکن ہے کہ یہ ان سے بہتر ہوں  اور نہ عورتیں عورتوں کا مذاق اڑائیں ممکن ہے کہ یہ ان سے بہتر ہوں اور آپس میں ایک دوسرے کو عیب نہ لگاؤ  اور نہ کسی کو برے لقب دو  ایمان کے بعد فسق برا نام ہے ،   اور جو توبہ نہ کریں وہی ظالم لوگ ہیں ۔ 

اور ہمارے لئے لازم ہے کہ ہم اپنے اقوال و افعال میں اللہ کا تقوی اختیار کریں آپ صل اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے جہاں بھی رہو اللہ سے ڈرو، برائی کے بعد  ( جو تم سے ہو جائے )  بھلائی کرو جو برائی کو مٹا دے اور لوگوں کے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آؤ“۔

اور ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے

اور تقوی کو اپنے اور اللہ کی حرام کردہ چیزوں کے درمیان آڑ بنائیں اور بعض صالحین نے کہا کہ تقوی کا معنی ہے اللہ آپ کو وہاں دیکھے جہاں اس نے حکم دیا ہے اور وہاں نہ دیکھے جہاں سے منع کیا ہے اور تمام اخلاق حسنہ تقوی کا ثمر ہیں اور تقوی تمام فضائل کا سرچشمہ ہے تقوی اور حسن خلق یہی دو راستے ہیں جنت میں داخل ہونے کے ان ہی دو طریقوں سے انسان کامیابی اللہ کی رضا اور لوگوں کی محبت حاصل کرتا ہے اور جب آپ صل اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا

اور ابن قیم فرماتے ہیں تقوی اللہ کی محبت پانے کا سبب ہے اور حسن خلق دوسروں کو اس کی محبت کی طرف بلاتا ہے

تو ہم سب پر لازم ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے آداب و اخلاق لازم پکڑیں لوگوں کی ذات کا احترام کرتے ہوئے اور اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے جو ہر چھپی اور پوشیدہ باتوں کو جانتا ہے اور افراد اور معاشروں کی امن اور سلامتی کی حفاظت کرنا

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment