Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

حضرت محمدﷺ کے افکار کی روشنی میں اسلامی معاشرے کا قیام

ڈاکٹر/عبدالرحمن حماد الأزھری۔ بقلم الباحث/مظفر علی

یہ مضمون نبی کریم کی بعثت سے آج  تک امت مسلمہ کے مراحل بناء کی تعمیر کی حوالے سے ہے۔

اس میں نبی کریمﷺ کی بعثت سے تا ہجرۃ مدینہ منورہ تک کی تحقیق شامل ہے، پھر مدینہ کی ابتدائی انتظامی مراحل اور اسلامی معاشرے کی فکری اور تہذیبی طور پر کامیابی کی وجوہات بیان کرے گا ۔اس لیے  کہ نبی کریم کو تمام انسانیت کی طرف بھیجا گیا ہے تاکہ وہ انہیں انساتیت کی حقیقت اور وقار کی طرف رہنمائی کریں ۔ اللہ تعالی نے فرمایا: ” اور ہم نے تمام لوگوں کے فائدے کے لئے اس طرح جو قرآن پاک میں طرح طرح سے ہر قسم کے مضامیں بیاں کئے ہیں۔ اور انسان ہے کہ جھکڑا کرنے میں ہر چیز سے بڑھ گیا ہے” سورۃ کہف الایہ 54۔

اور ابن خلدون مدینہ منورہ کے معاشرے کی سماجی اور انسانی تنظیم کے مراحل کے بارے میں کہتے ہیں۔

“چونکہ سیاست گھروں یا شہر کا بندوبست کرنے کے بارے میں ہے جو اخلاقیات اور حکمت کے مطابق ضروری ہے، تاکہ عوام کو اس طریقہ کار پر عمل در آمد کرایا جا سکے جس میں نوع کا تحفظ اور بقا ہو۔۔” (،عبد الرحمن ابن خلدون، -732: 808- تاریخ ابن خلدون، ج1، ص 50۔)

اسلامی معاشرے کے بنیادی اصول ایک طاقتور قوم کے لیے آخر تک فکری اقدامات پر مشتمل ہوتے ہیں۔ میں ہمارے پیارے نبی تین مراحل کا تذکرہ کر دیتا ہوں۔ بطور مثال کیونکہ اس میں انسانی زندگی کے لیے  سبق ہے۔

اس فکر کی روشنی میں پہلا دور مکی دورہے یہ دور فکری طور پر افراد کو نئی اور آزاد امت کی بنیاد پر اکھٹا کرنے پرمبنی تھا۔

  تو حضرت نبی کریم  نے قریش اور اہل مکہ کی مشکلات برداشت کیا ۔

نمبر 2: اور آپ  نے اپنے پیاروں اور احباب کے ساتھ مکہ مکرمہ میں علیحدگی اور مدینہ منورہ کی طرف ہجرت اختیار کر کے اس دکھ کو بھی برداشت کیا ۔

  • دوسرا دور: میں دیکھتا ہوں کہ مدینہ کی پہلے دنوں میں معاشرے کی تشکیل کے مراحل مدینہ منورہ کی دستاویز کی صورت میں طے ہوتے ہیں۔جس سے مدینہ منورہ کے لوگوں کے ما بین (مسلمانوں اور دوسروں) پرامن زندگی کا اصول طے ہوتا ہے۔
  • تیسرا دور: امت اسلامیہکی برتری پر مشتمل ہے۔ خاص طور پر صلح حدیبیہ سے جو امت مسلمہ کا پہلا قدم تھا۔ کیونکہ اس وقت کی موجود طاقتوں نے اسے تسلیم کیا تھا۔

پھر آخری دور: فتح مکہ کے بعد آیا تو امت مسلمہ ایک عالمی طاقت بن جاتی ہے۔ جہاں انہوں نے عالمی طاقتوں کو اپنے وجود کی اور زمانے کے اعتبار سے انسانی تہذیب و تعمیر میں مسلمانوں کے حقوق کی طرف ترجہدلائی۔

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment