Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

اسلام میں لوگوں کے درمیان مساوات

ڈاکٹر محمد راسخ

 ترجمۃ ڈاکٹر: احمد شبل

حق مساوات ایک اساسی اور بنیادی امر ہے، اسلام نے عبادات، معاملات اور نظام حکم میں   اس کی ترغیب دی ہے اور اس کا تعلق انسان کو ایسی نظر سے دیکھنے سے ہے جو جنس، لغت اور مادے سے بالا تر ہو ۔ اسلام جب آیا تو لوگ رنگ و نسل کے تعصب میں مبتلا تھے۔ کالے، سفید، عجمی ، عربی میں فرق کیا جاتا تھا، اسلام نے ان تمام چیزوں کو ختم کر دیا اور واضح طور پر بیان کر دیا کہ سب لوگ برابر ہیں۔ مساوات اصل ہے اور تعدد بھی اصل ہے اور ان سب کا ہدف تعارف ہے لیکن فضیلت کا معیار تقویٰ ہے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سب آدم علیہ السلام سے پیدا کیے گئے اور آدم مٹی سے پیدا کیے گئے تھے ۔ اور نہ عربی کو عجمی پر کوئی فضیلت ہے اور نہ عجمی کو عربی پر، نہ سرخ کو سفید پر اور نہ سفید کو سرخ پر مگر تقویٰ کے۔ اسلام نے مساوات کی طرف چودہ سو سال پہلے دعوت دی اور آج کے لوگوں نے اب اس کا چرچا کرنا شروع کیا ہے۔ لہٰذا اسلام اس چیز کی تطبیق میں ان سے سبقت لے گیا۔

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment