Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

مصر ازہر اور پاکستان کے تعلقات

بقلم :ڈاکٹر حسن عبد الباقی , ڈاکٹر عبد الرحمن حماد ازھری

مصر ازہر اور پاکستان کے تعلقات کی تاریخ

مصر اسلامی جمہوریہ پاکستان کی آزادی کے لئے یکجہتی اور معاونت کرنے والے مشرق وسطی کے مسلم ممالک میں سے ایک ہے، مارچ ۱۹۴۰ ء میں قائد اعظم نے آزادی پاکستان تحریک کی بنیاد رکھی، اس تحریک کے لئے ہندوستان اور تمام دنیا کے مسلمانوں نے حمایت کی، اس لئے قائد أعظم محمد علی جناح نے ۱۹۴۶ میں مصر کے دورے کا فیصلہ کیا تاکہ اسلامی دنیا کے ممالک سے ہر قسم کی حمایت اور مدد حاصل کی جائے، اس  سفر کے موقعے پر قائد اعظم محمد علی جناح  ازہر شریف کے رئیس  شیخ مصطفی عبد الرزاق اور فلسطین کے مفتی شیخ أمین الحسینی  اور ازہر کے بہت سے علما ء ور مصر کی اسلامی شخصیات سے ملے ،  جس طرح کہ مصر کا  مشرق اوسط  کے ان اسلامی ممالک میں ہوتا ہے جس نے پاکستان کی آزادی کے موقع پر پاکستان کا سفارت خانہ کھولا، ۳۰ جون ۱۹۴۸ ء کو پاکستان کا پہلا سفیر مقرر کیا گیا، ۱۹۴۹ ء میں مصر کے پہلے سفیر محمد علی باشا علوبۃ  کا اسلامی جمہوریہ پاکستان میں استقبال کیا گیا۔

جلد ہی عربی جمہوریہ مصر اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے درمیان تعلقات بڑھنے لگے،  نومبر  ۱۹۴۸ ء کو لندن کی کامن ویلتھ کانفرنس سے واپسی پر پاکستان کے وزیر اعظم نے مصر کا دورہ کیا اور مصری قیادت سے ملکی حالت اور اسلامی دنیا کے حالات کے متعلق بات چیت کی، ۱۹۵۱ ء میں مصر اور پاکستان کے درمیان دوستی کے معاہدے پر دستخط کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات مضبوط ہو گئے ۔

  • جولائی 1952 تحریک کے ساتھ، پاکستان نے انقلاب کی حمایت  اور آزادی کے لئے جدوجہد کی حمایت کی۔  مصر کا ۱۹۶۵ ء کی ہندوستان اور پاکستان  کی جنگ کو روکنے میں بڑا کردار ہےجمال عبد الناصر نے اسی سال کے ۸ ستمبر کو دونوں ملکوں سے جنگی ہتھیاروں کو روکنے کی گزارش کی،  اور اپنے دم  سے دونوں حکومتوں کے لئے اچھی کوشش کی۔
  • مصر نے ہندوستان اور پاکستان کی ۱۹۷۱ ء کی  جنگ کے بارے میں بھی گہری تشویش کا اظہار کیا،  اور پاکستان کے اتحاد کو خطرے کے خوف ظاہر کیا ہے جو پاکستان کے لئے خطرہ بن سکتا ، جیسے کہ مشرقی پاکستان (بنگلادیش)پاکستان سے الگ ہو گیا۔
  • اسلامی جمہوریہ پاکستان کے خاص امور میں سے ایک ۱۹۷۳ ء کی چھٹی جنگ میں اس کا مصر کی جانب میلان ہے، پاکستان نے مصر کے سمندری جنگیبیڑوں کو محفوظ کر لیا،  مصر کے صدر نے ۱۹۷۴ میں پاکستان کا دورہ کیا اور پاکستان اور بنگلادیش کے تعلقات میں اہم کردار ادا کیا۔
  • جس طرح کہ تاریخ نے اسلامی کانفرنس میں مصر کی واپسی کے بارے میں مصری پوزیشن کی حمایت میں پاکستان کا اہم کردار بھی درج کیا،  1984 ء میں رباط میں منعقد ہونے والے اجلاس کے ذریعے.

ازہر اور پاکستان کے تعلقات

پاکستان کے قیام ۱۹۴۷؁ سے ہی جمہوریہ عربیہ مصر اور اسلامی جہموریہ پاکستان کے درمیان گہرے اخوتی تعلقات ہیں، خاص کر مصر اور ازہر کا اپنے دوستوں کے ساتھ ثقافتی تعلق کبھی بھلایا نہیں جا سکتا، ازہر شریف نے ہمیشہ بڑی تعداد میں پاکستانی طلبہ کو خوش آمدید کہا ہے وہاں کے مختلف شعبہ  جات میں خاص کر علوم اسلامیہ اور عربی ادب کے شعبے قابل ذکر ہیں، ان ازہر شریف سے پڑھ کے آنے والے طلبہ پاکستان آکر مختلف اداروں میں اہم عہدوں پر فائز ہوئے،  جن میں سے کوئی امامت اور خطابت کے فرائض کے سرانجام دے رہے ہیں تو کوئی جج تک ہوئے، جو کہ ازہر شریف کا سرمایہ ہیں۔

ازہر شریف نے اسی پر اکتفا نہیں کیا، پاکستان کے ساتھ اپنے اخوتی، ثقافتی اور علمی تعلقات کو مزید پختہ کیا اور اپنے انتہائی قابل اور جید علماء اور شیوخ کو مختلف سرکاری اور دینی تعلیمی اداروں میں بعثہ ازہریہ کی طرف سے تدریس کے فرائض کے لئے بھیجا، جن میں کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے ادارے سر فہرست ہیں، جو کہ پاکستان کے اداروں سے بدلے میں کسی بدلے کی لالچ نہیں رکھتے، بعثہ ازہریہ نے پاکستان میں پاکستانیوں کی تعلیم کے لئے اسلام آباد میں ادارے کا قیام کیا جس میں ازہری منہج کے مطابق تعلیم  دی جاتی تھی، اور اس میں بعثہ ازہری کے عظیم شیوخ تدریس کے فرائض سرانجام دیتے رہے، اور اس ادارے نے تقریبا ۱۰ سال  تک خدمات سرانجام دیں، اور پھر ۲۰۰۱ میں اس اداروں کو بند کر دیا گیا، امید ہے کہ اب جلد اس کو دبارہ سے شروع کر دیا جائے گا۔

 بعثہ ازہریہ کو انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے، اس لئے کہ مصر نے اپنے چیدہ چیدہ علماء ازہر شریف سے اور دوسرے اداروں سے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کو تقریبا ۳۵ سال سے بھیج رہا ہے، جنہوں نے یونیورسٹی کو پروان چڑھایا اور بین الاقوامی سطح کی یونیورسٹی بنایا، اور ان کے یہ شیوخ ابھی تک یونیورسٹی کے مختلف اہم شعبوں میں تدریس اور تحقیق کی خدمات سرانجام دے رہے ہیں، خاص کر تفسیر، حدیث، فقہ اور اصول فقہ، عربی اداب کے شعبہ جات، اور تاریخ اور سیرت النبی ﷺ اور دعوت وثقافت اور معاشیات وغیرہ جیسے شعبہ ہائے جات شامل ہیں۔

علماء ازہر کے وہ دمکتے ستارے جنہوں نے اسلامی یونیورسٹی کی تاسیس اور ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔

  1. پروفیسر ڈاکٹر حسین حامد حسان، یہ وہ پہلے مصری پروفیسر ہیں جنہوں نے جامعہ کی بنیاد اور ترقی میں حصہ لیا، اور ؁ ۱۹۸۱ سے ۱۹۹۶ تک جامعہ کے صدارت کے منصب پر فائز رہے، پھر ؁ ۱۹۹۶ سے ۲۰۰۱ تک مشیر کے منصب پر رہے، اور ابھی تک جامعہ امناء کی کمیٹی کے ممبر ہیں۔
  2. پروفیسر ڈاکٹر حسن محمود عبد اللطیف الشافعی، انہوں نے اصول الدین فیکلٹی میں تدریس کے فرائض سر انجام دیے اور ۱۹۹۸ سے ۲۰۰۴ء تک نائب صدر کے عہدے پر رہے، اب وہ قاہرہ میں مجمع اللغۃ العربیہ کے سر براہ ہیں، اور آپ ’اتحاد المجامع اللغویۃ العربیہ‘ کے بھی سربراہ ہیں۔
  3. پروفیسر ڈاکٹر احمد محمد العسال رحمۃ اللہ علیہ جو ؁ ۱۹۸۷ سے ۱۹۹۶ ءتک پروفیسر اور نائب صدر کے عہدے پر فائز رہے، پھر ۱۹۹۶ سے ۱۹۹۸ ء تک صدارت کے منصب پر رہے، پھر دوبارہ ۱۹۹۸ سے ۲۰۰۱ ء تک نائب صدر رہے، پھر ۲۰۰۱ سے ۲۰۰۴ ء تک مشیر کے طور پر خدمات سرانجام دیتے رہے۔
  4. پروفیسر ڈاکٹر علی عشری زاید، یہ وہ ہیں جنہوں نے عربی ادب فیکلٹی کی بنیاد رکھی اور اس کے ڈین کے منصب پر ؁ ۱۹۸۲ سے ۱۹۹۲ ء تک فائز رہے، اور ان کا زبان اور ادب کی فیکلٹیوں کی ترویج میں اہم کردار ہے۔
  5. پروفیسر ڈاکٹر محمد عبد الہادی سراج انہوں نے ۸۰ کی دہائی میں فیکلٹی شریعہ وقانون کے ڈین کے منصب پر رہے، اور پھر شریعہ اکیڈمی کے سربراہ رہے۔
  6. پروفیسر ڈاکٹر عبد اللہ جمال الدین، آپ ۸۰ کی دہائی میں اصول الدین کے ڈین رہے۔

ان عظیم شیوخ کی پیروی کرتے ہوئے بعد میں بھی نامی گرامی شخصیات نے یونیورسٹی کی ترقی میں اپنی گراں قدر خدمات پیش کیں، جن میں سے کچھ نام یہ ہیں، پروفیسر ڈاکٹر محمود شرف الدین، پروفیسر ڈاکٹر رجاء عبد المنعم جبر، پروفیسر ڈاکٹر محمد حماسۃ عبد اللطیف، پروفیسر ڈاکٹر عبد اللطیف عامر، پروفیسر ڈاکٹر عبد الغفور مصطفی، پروفیسر ڈاکٹر احمد عبد العظیم، پروفیسر ڈاکٹر دیاب عبد الجواد، پروفیسر ڈاکٹر محمد احمد محمود حماد، پروفیسر ڈاکٹر ابوالیزید العجمی، پروفیسر ڈاکٹر محمد خلیفہ حسن، پروفیسر ڈاکٹر محمود مخلوف، پروفیسر ڈاکٹر عبد التواب حامد، پروفیسر ڈاکٹر عبد الرحمن یسری اور پروفیسر ڈاکٹر رفعت العوضی وغیرہ جیسی مایہ ناز شخصیات کے نام ہیں۔ اور ان کے علاوہ اہم شخصیات نے پاکستان کے دورے کئے، جن میں سے کچھ قابل ذکر شخصیات یہ ہیں:

  1. محترم المقام جناب امام الاکبر پروفیسر ڈاکٹر جاد الحق علی جاد الحق شیخ الازہر، جنہوں نے ۸۰ کی دہائی کے آخر میں پاکستان کا دورہ کیا اور ازہریوں کے ادارے کی توثیق فرمائی۔
  2. محترم المقام جناب امام الاکبر پروفیسر ڈاکٹر محمد سید طنطاوی شیخ الازہر ، جنہوں نے ۹۰ کی دہائی میں پاکستان کا دورہ کیا۔
  3. محترم القام جناب پروفیسر ڈاکٹر احمد طیب شیخ الازہر، آپ یہاں پر پروفیسر کے منصب پر رہے اور ۱۹۹۹ سے ۲۰۰۱ ء تک اصول الدین کے ڈین کے منصب پر فائز رہے، مصر واپس جانے کے بعد انہیں مصر کا مفتی منتخب کیا گیا، اور اس کے بعد سے آپ ابھی تک شیخ الازہر کے منصب پر فائز ہیں، اور موجودہ بعثہ ازہریہ انہیں کی مہربانی اور شفقت کا نتیجہ ہے۔
  4. پروفیسر ڈاکٹر احمد عمر ہاشم جامعہ ازہر کے سابقہ رئیس، ۹۰ کی دہائی میں انہوں نے جامعہ کے امناء کی میٹنگ میں شرکت کی۔
  5. پروفیسر ڈاکٹر محمد عبد الفضیل القوصی سابقہ وزیر اوقاف جنہوں نے ۹۰ کی دہائی کے آخر میں  ثقافتی ہفتہ میں ایک علمی کانفرنس میں شرکت کا شرف بخشا۔
  6. پروفیسر ڈاکٹر عبد الفتاح الشیخ سابقہ رئیس الازہر، جنوں نے ۸۰ کی دہائی کے آخر میں ثقافتہ ہفتے میں ایک کانفرنس میں شرکت کا شرف بخشا۔
  7. پروفیسر ڈاکٹر اسامہ العبد سابقہ رئیس الازہر، انہوں نے پاکستان کا دورہ کیا اور انہیں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی آخری تین سالوں میں دو بارہ مدعو کیا گیا۔
  • ان شخصیات کے علاوہ بھی کچھ علمی شخصیات نے پاکستان کا دورہ کیا، جن میں عظیم عالم پروفیسر ڈاکٹر محمد عبد اللہ دراز آپ ۱۹۵۸ میں لاہور میں ایک اسلامی کانفرنس میں شرکت کی غرض سے تشریف لائے، اور کانفرنس کے دوران ہی آپ رحمۃ اللہ علیہ اس جہان فانی سے کوچ کر گئے۔

اس کے بعد بھی ازہر شریف ایک دائمی ادارے کے طور پر قائم ہے اور نسل در نسل اس کی آبیاری ہو رہی ہے۔۔۔

اسی مدح میں شاعر ڈاکٹر عبد السلام سرحان اپنے قصیدے ملحمۃ الازہر میں کہتے ہیں:

اہل مناصب کو معرفت کی شراب پلائی گئی، اول سے آخر ان کو علم نے چمکا دیا

وہ اپنی قوم کو ڈراتے ہیں جب ان کی طرف نکلتے ہیں، ان کو دین سکھا کر ان کونرم بنا دیا

وہ قرآن پاک کا تازہ پھل لیتے ہیں، ان کی ٹہنیوں سے خوشبو کے کھینچ لیتے ہیں۔

ان کی بلاغت کوثر کا فیض ہے، اور فصاحت ان کی بڑھتی ہی رہتی ہے،

اسی وجہ سے اپنے سے دور لوگوں کو پوری دنیا سے اپنے پاس لاتےہیں فخر کے طور پر،ان کے اس آزدانہ طریقے کو تاریخ بھی مانتی ہے،

ہندوستان، چین اور افغانستان میں بھی ان کو بلند مقام حاصل ہے، اس بلندی سے اور زمانہ ان کی بلبدیوں کا معترف ہے۔

انڈونیشیا اور پاکستان میں اس کی شاخیں ہیں، اور ملائیشیا اس کے چراغ سے منور ہے۔

ڈاکٹر حسن عبد الباقی                                               ڈاکٹر عبد الرحمن حماد

پروفیسر عربی فیکلٹی                                    پروفیسر ہیڈ آف دیپارٹمنٹ سیرت اور تاریخ اسلامی

انٹر نیشنل اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد   انٹر نیشنل اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد   

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment