Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

[دعوت إلی اللہ] اللہ کا فضل اور عطا ہے

ڈاکٹر محمدی عبد البصیر ازھری

دعوت إلی اللہ ایک مثبت کام جس کا مقصد سعادت تک پہنچانا اور رنگ زبان اور نسل کے تعصب سے دور کرنا ہے، تمام لوگ آدم میں سے ہیں، انسانیت سب میں مشترک ہے، اور کام میں اور آگے بڑھنے میں ایک دوسرے سے سبقت کی کوشش کرنا یہ امن اور بقاء کی کم از کم طریقہ ہے، یہاں پر دعوت کا معنی ہیں کہ خیر اور فضیلت کے میدان میں ایک دوسرے سے مقابلہ کرنا اس مقابلے کے میدان میں جدید اور قدیم مصلح اور امن کے متلاشی ہوتے ہیں، جو انسان ذات کی آزادی کے لئے جیتے ہیں ماضی کی ناکامیوں اور دور حاضر کی بے معنی اشیاء سے دور ہوتے ہیں، ان لوگوں کی تعریف کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: [بیشک یہ (سب) نیکی کے کاموں (کی انجام دہی) میں جلدی کرتے تھے] اور دوسری جگہ ارشاد فرمایا [یہی لوگ بھلائیوں (کے سمیٹنے میں) جلدی کر رہے ہیں اور وہی اس میں آگے نکل جانے والے ہیں]۔

جو کچھ پہلے ذکر کیا وہ دعوت کا مفہوم تھا جو لوگوں کو سعادت، بھلائی اور امن وسلامتی کی طرف بلاتی ہے، ان کے لئے ایک دوسرے کو سمجھنے اور آپسی محبت کے دروازے کھولتی ہے، تا کہ تمام لوگ فلاح انسانیت میں شریک ہوں، اور انسانیت کی آزادی سے سعادت حاصل کریں، اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ہر انسان کے میں مضبوط عزم اور بھلائی موجود ہوتی ہے جو اسے اس میدان کا کارگر ممبر بنا سکتی ہے، یہ کوئی بہت بڑا کام نہیں ہے بس اتنا ہوتا ہے کہ انسان جو اپنے تجربوں سے سیکھے وہ کرے اور دوسروں کو سکھائے، اس سے اس کا مقصد اپنے وطن کی بھلائی اور انسانیت کی بھلائی ہو، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: [اور نیکی اور پرہیزگاری (کے کاموں) پر ایک دوسرے کی مدد کیا کرو] دوسری جگہ پر فرمان ہے کہ [اے ایمان والو! اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ، اور شیطان کے راستوں پر نہ چلو، بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے] کیا ہی اچھا ہے انسان اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی ہمیشہ سنہرے لفظوں سے یاد کی جانے والی تاریخ رقم کرے جس میں اپنی نسل کو محبت، وفا، اخلاص اور قربانی کا درس دے،  [اور میرے لئے بعد میں آنے والوں میں (بھی) ذکرِ خیر اور قبولیت جاری فرما]۔

یہاں سے یہ بات جان لو کہ دعوت کا مفہوم بہت وسیع ہے، جو کہ انسانی ہر اس سرگرمی کو شامل ہے جس کا مقصد فلاح عامہ ہو اور تخریب انانیت سوچ اور رائے میں سرکشی زیادتی سے دور کرے، دعوت کا میدان اتنا وسیع ہے کہ اس میں ہر وہ فرد شریک ہے جس کو مہارت اور حق کی سچی معرفت حاصل ہے اور وہ افراد کی تربیت کرتا ہے اور اپنے وطن کو معاشرتی برائیوں اقتصادی بے راہ وروی سے بچاتا ہے تا کہ اس میں امن قائم ہو اور آنے والی نسل امن وسلامتی سے زندگی گزار سکے، وطن کی خدمت سے کسی کو استثنی نہیں کہ وہ اس عظیم کام میں کوئی عذر پیش کرے، یا اس میں پیچھے رہے،  اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ: [اور اس شخص سے زیادہ خوش گفتار کون ہو سکتا ہے جو اﷲ کی طرف بلائے اور نیک عمل کرے اور کہے: بے شک میں (اﷲ عزّ و جل اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے) فرمانبرداروں میں سے ہوںo]، مسلمان کا سینہ پھول جاتا ہے جب وہ نبی کریم ﷺ کی داعی کے لئے دعا سنتا ہے جس میں آپ ﷺ داعی کے لئے نورانیت اور طاقت کے لئے دعا فرماتے ہیں کیونکہ وہ دعوت دوسروں کی فلاح وبہبود کا کردار ادا کرتے ہیں، آپ ﷺ کا فرمان عالیشان ہے [اللہ تعالیٰ اس شخص کے چہرے کو منور کرے جو میری بات کو سن کر دوسروں تک پہنچاتا ہے یہاں تک کہ اس کا حق ادا کر دیتا ہے، کئی پیغام کو آگے پہچانے والے سننے والے سے بہتر ہوتے ہیں]، اسلام کے داعی دعوت کی اہمیت کو بخوبی جانتے ہیں اور اس کی خاطر اپنا تن من دھن لگا دیتے ہیں، ہاں وہ انبیاء کرام علیہم السلام ہی تھے جنہوں اصلاح کی دعوت دی اور اپنی زندگی دوسروں کی بھلائی کی خاطر جیئے، اور یہی روش ان کے بعد کے مصلحوں نے اپنائی اور ہر دور میں ہر جگہ، اس لئے کہ دعوت کا اثر بہت عظیم  ہے اور یہ خیر وبھلائی کی کنجی ہےجہالت کو پاش پاش کر دیتی ہے اور اصلاح کرتی ہے اور فساد سے بچاتی ہے، اور انسان کو راہ راست پر لاتی ہے، اور اسے ہاتھ سے پکڑ کر فساد سے اصلاح کی طرف لے جاتی ہے، اسی مناسبت سے اللہ کے رسول ﷺ کا انتہائی خوبصورت قول مبارک ہے کہ [اگر اللہ تعالیٰ تیرے ذریعے کسی ایک شخص کو بھی ہدایت دے دے تو وہ تیرے لئے سرخ اونٹ سے بھی بہتر ہے] یہ زندگی میں قیمتی ترین چیز اور بہت بڑا تحفہ ہے جس کو انسان حاصل کرنا چاہے گا، ایسا انسان جو معاشرے کو خیر اور بھلائی کی دعوت دیتا ہے گویا اس نے اسے اللہ کی طرف دعوت دی، اور جس نے ملک کے امن اور استحکام کی دعوت دی گویا اس نے اللہ کی طرف دعوت دی، اور جس نے لوگوں کی بھلائی کی خاطر ان کی مشکلات حل کیں گویا اس نے اللہ کی طرف دعوت دی، جس نے کسی کی تکلیف پر صبر کیا گویا اس نے اللہ کی طرف دعوت دی، اسی طرح دعوت إلی اللہ کا کے دونوں دروازے کھلے ہوئے ہیں داخل ہونے والوں کے انتظار میں [اور (یہی وہ شراب ہے) جس کے حصول میں شائقین کو جلد کوشش کر کے سبقت لینی چاہیے]۔

اور تمام تعریفیں تمام جہانوں کے رب کے لئے ہیں

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment