Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

قرآن مجید کے تواتر کے بارے میں شبہات

ڈاکٹر عبد المحس جمعۃ عبد الحمید ازھری

کچھ لوگ اچھے کلمات کے مقام کی تبدیلی کرنا چاہتے ہیں،  میرے پاس ایسے بہت سی نصوص ہیں،  جن کے ذریعے ان کی سازش تک پہنچ ہوئی ،  اس میں دو چیزیں اہم ہیں، پہلی: تحریف والی جگہ پر صحیح سے نص پر اثرات چھوڑنا۔ دوسری: مسلمانوں کے نزدیک دینی ثقافت کو ٹھیک سے عام کرنا جو واضح بھی ہو،  ان کا مقصود کچھ اثرات پہچانا ہوتا ہے کہ اس طرح کی باتیں   عام کی جائیں مسلمانوں کی سوچ پر غلط اثر ڈالے۔

          مختلف قضایا : (قرآن کریم کا تواتر) یہ متعصب لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ قرآن  صحیح نقل ہو کر نہیں پہنچا تواتر کی شروط کے مطابق، اس طرح کہ قرآن کریم کو نقل کسی پوری جماعت نے نہیں کیا بلکہ افراد نے نقل کیا ہے جن کی تعداد تواتر تک نہیں پہنچ پاتی،  اس وجہ سے قرآن دلیل نہیں رہا اور مضبوطی سے پکڑنے کی حیثیت کھو بیٹھتا ہے اس لئے کہ ہو سکتا ہے اس میں کوئی خبر واحد بھی  ہو سکتی ہے تو اس پر عمل کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ظنی الثبوت  ہونے کی وجہ سے،  بخاری شریف میں ہے کہ حضرت قتادۃ نے کہا میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کیا: نبی کریم ﷺ کے عہد میں کس نے قرآن کو جمع کیا؟ تو  انہوں نے کہا: چار نے سارے کے سارے انصار میں سے تھے،  أبی بن کعب، معاذ بن جبل، زید بن ثابت، اور ابو زید۔ اور دوسری روایت میں ہے کہ أبی بن کعب کی جگہ أبو درداء کا ذکر کیا (رضی اللہ عنہما)۔

یہ عدم تواترت کی بات بیکار ہےاس کی کوئی حیثیت نہیں کیوں کہ تحقیق کے کچھ اصول ہیں:

پہلا:نبی کریم ﷺ  میں حفاظ کی تعداد کا عدد حدیث میں ذکر نہیں ہے بوجہ اس کے کہ صحابہ کرام اس حفظ کے حریص تھے اور ان کی جان قرآن میں تھی، اور ان کا پختہ یقین تھا کہ شرف اور منزلت قرآن کریم کو جتنا  حفظ رکھیں گے اس حساب سے ہوگا۔

دوسرا: یہ تو وہ ہے جو ہماری طرف منتقل ہوا اور ستر حفاظ قرآن صحابہ کرام ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ کے عہد میں بئر معونۃ میں شہید ہوئے، کیا پھر بھی نبی ﷺ کے دور فقط چار ہی صحابہ کرام تھے؟

تیسرا: صحابہ کرام کی بہت بڑی تعداد حضرت ابوبکر صدیق ﷺ کے دور میں مرتدین کے خلاف جنگ میں شریک ہوئے اور شہید ہوئے اور  وہ حفاظ قرآن تھے۔ جن توصیف حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے اس قول سے فرمائی ہے: (قراء کی شرکت سے جنگ شدید تھی) معنی یہ کہ جنگ جوبن پر تھی اور ان کی قاریوں کی تعدادزیادہ تھی۔ یہ وہ قاتلین تھے جو ان جنگوں میں شریک ہوئے، تو ہمارا کیا ان پر حکم لگائیں جو جنگوں میں شریک ہوئے اور شہید نہیں ہوئے؟ اور ان اوپر جو شریک نہیں ہوئے؟ کیا وہ سب قرآن مجید کے تواتر کے مستحق نہیں تھے؟۔

یہ بات صرف مردوں تک محدود نہیں کہ انہی نے حصہ لیا قرآن یاد کرنے میں جبکہ بہت سی عورتوں کا ابھی اس کام میں حصہ کہ زیادہ امہات المؤمنین نے پورا قرآن کریم یاد کیا ہوا تھا۔ اور انہیں کی طرح بہت سی صحابیات بھی تھیں۔

رہی یہ بات کہ اس شبہات کے حامل لوگ کہتے ہیں کہ اس بات کا احتمال ہے کہ ان چند کے سوا کسی  نے  قرآن کو نزول کے مطابق تمام طریقوں کے مطابق جمع نہیں کیا۔ یا اس کے جمع سے یہ مراد لینا کہ پورا قرآن رسول ﷺ کی زبان پر ایک دم جاری ہوا بغیر کسی واسطہ کے، دوسروں کے برخلاف اس بات کا احتمال ہے کہ بعض کو واسطہ سے ملا۔  یا اس سے مراد کتاب کی جمع کی کوشش۔ اس کے علاوہ بھی بہت سی تاویلات پھیلی ہوئی ہیں کہ بات میں کیا احتمالات ہیں۔

معیار تحقیق میں عدم تواتر کے قول ان اسنادوں کی روایات کے ساتھ قبول کیے گئے ہیں کہ ہم اس بات کو تسلیم کرتے ہیں تمام صحابہ میں سے  صحابہ کا انتخاب کیا گیا کہ کون کون قرآن حفظ کریں گے،  جبکہ یہ  محال بھی ہے یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ یہ ٹھیک ہے۔  یہ عدم تواترت کے متعلق فقط باتیں ہیں،  اور کمزور دعوے ہیں، اور اس سے قرآن کا تواتر ثابت ہوتا ہے،  یہ ایسی خصائص میں سے ہے کہ جو ثبوت دوسری آسمانی کتابوں متعلق نہیں۔  اللہ ہی ہے جس نے ان کو رسوا کیا۔

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment