Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

اسلام اور تعددازواج کے بارے شبہات

طالب علم وقار احمد
مشرف: ڈاکٹر محمد عبد العزیز خضر ازہری

تمام تعریفیں اس رب کے لئے جس نے انسان کو پیدا فرمایا اور اس پر نعمتوں کی بارشیں فرمائیں اور اس کا شکر ہے پاک ہے وہ ذات اس  نے ہم پر اسلام کی نعمت کی فیضیابی کی۔

اسلام خیر کا جذبہ ابھارنے اور برائی سے روکنے کے لئے آیا،  جن باتوں کی ترغیب دی اسلام نے ان میں سے تعدد ازواج کی اباحت بھی ہے اس میں مرد اور عورت کے لئے  بہت  عظیم مصلحتیں ہیں۔لیکن افسوس! اس تعدد کی بات پر مغرب اسلام کے سامنے ہو گیا تا کہ مسلمانوں کے ذہنوں میں خلل پیدا کرے اور میاں بیوی میں تفریق ڈالے، اور کہتے ہیں کہ تعدد میں عورت کے لئے عدم مساوات ہے  اور اسلام نے عورت کو حق تعدد سے محروم کیا ہے،  اور اسلام اس کی زوجیت کی تکریم کو زنگ پہنچاتا ہے  جب ایک شوہر دوسری عورت سے شادی کرتا ہے اور یہ کہ دو میاں بیوی کے درمیان مساوات محال ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ تعدد زوجات فقط اسلام کے ساتھ خاص نہیں یہ تو اسلام کے آنے سے قبل ہزاروں سال سے دوسرے ادیان سابقہ میں پایا جاتا تھا اور اس میں کوئی قیود اور شرائط نہیں ہوتی تھیں۔ جب اسلام آیا تو اس نے اس کے لئے حدود اور شرائط کا دائرہ کھینچ کر عورت کا درجہ بلند کیا اور اسے ظلم اور زیادتی کی کھائی سے نجات دلائی۔

نظام زواج میں مرد اور عورت کے درمیان مساوات مرد اور عورت کی طبیعت  کے اختلاف   کے بالائے طاق رکھتے ہوئے ناممکن ہے، اللہ تعالیٰ نے عورت کو پیدا فرمایا اور اس میں ایک رحم رکھااس سے ایک وقت میں ایک ہی مرد سے حمل لے سکتی ہے، مرد کی تخلیق اسے سے الگ ہے، ہاں یہ ممکن ہے متعدد شادیوں سے اس کی متعدد اولاد ہو۔

اسلام نے جب اسے مباح قرار دیا تو تعدد ازواج کے لئے شرائط عائد کیں کہ:

وہ تعدد پر قادر ہو نان ونفقہ اور صلاحیت زوجیت پر۔

اپنی بیویوں کے درمیان عدل کرے، ایک وقت میں چار سے زیادہ جمع نہیں کر سکتا۔

ان کا اسلام میں تعدد ازواج عورت کی قدر کی توہین گرداننا اور اس کے حقوق کی سلبیت کا الزام بے بنیاد ہے کیوں کہ دونوں عورتیں برابر ہوں گی ان کی منطق بالکل غلط ہے، کیا دوسری بیوی عورت نہیں؟ کیا اس کے حقوق نہیں؟ تو کیوں ایسا لگے گا کہ جیسے اس  کا شوہر نہیں، اور بے گھر ہوگئی ہے، لہذا تعدد میں عورت کی کوئی توہیں نہیں بلکہ یہ تو اس کی حفاظت ہے۔

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment