Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

کیا کفر سے یہ لازم آتا ہے کہ کسی کو قتل کیا جائے یا قتال کیا جائے؟

جو شخص اللہ کے کونی دلائل میں غور و خوض کرے تو اُس کو تباین اور اختلاف نظر آئے گا اللہ کے کونی دلائل میں دن رات، آسمان زمین,اجناس اور رنگوں کا اختلاف ہے۔اسی طرح وہ عقیدہ جو اللہ کی تقدیر اور ارادے کے ساتھ تعلق رکھتا ہے ، اُس کا بھی اختلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ کہتے ہیں :» وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا پاس تم میں سے کافر ہیں اور تم میں سے مومن ہیں اور اللہ تمہارے اعمال سے با خبر ہے ۔»

امام سعد ی اپنی تفسیر میں کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا اس بات کو بیان کرنا کہ اُس نے انسان کو پیدا کیا اور ان میں کافر اور مومن ہیں، پس ان کا ایمان اور کفر اللہ کے تقدیر اور فیصلے سے ہوتا ہے۔ جہاں اللہ تعالی نے ایک  ارادہ کیا ہے وہاں انہیں بھی ایک ارادہ بخشا ہے۔ اللہ فرماتے ہیں: تم جو عمل کرتے ہو اللہ اُسے دیکھنے والا ہے۔

جب اللہ کا اپنا مخلوق کے بارے میں یہ ارادہ ہوا، تو کوئی انسان بھی اس ارادے کو ترک نہیں کر سکتا کیوں کہ اگر اللہ چاہے کہ تمام مخلوق مومن ہو جائے، لیکن اللہ نے اپنی حکمت بیان کی ہے۔  اللہ فرماتے ہیں : «اگر ہم چاہتے تو تمام لوگ ایمان لے آتے، کیا تم لوگوں کو نا پسند کرو گے حتٰی کہ وہ ایمان لے آئیں «. یعنی اگر اللہ چاہتا تو ان کے دلوں میں ایمان ڈالتا اور ان کے دلوں کو تقویٰ کے لیے تیار کرتا ۔

اللہ کی قدرت سے ایسا ہو سکتا ہے لیکن اللہ کی حکمت اس بات کی متقاضی ہے کہ ان میں سے بعض مومن ہوں اور بعض کافر۔

اور اللہ کے علاوہ کسی کی بھی قدرت نہیں ہے کہ حتٰی کہ رسول اللہ کو بھی، اور وہ اللہ کی طرف سے رسول تھے لہٰذا عام انسان کو کیا مجال ہو سکتی ہے۔

اسی طرح فرمایا گیا: دین میں کوئی زبردستی نہیں

یہ ایک عام آیت ہے جو وضاحت کرتی ہے کہ ہم کسی کو مجبور نہیں کر سکتے۔ کافر کو صرف کفر کی وجہ سے قتل کرنا واجب ہوتا تو یہ اكراہ یعنی زبردستی میں آ جاتا۔

اسی طرح نبی اور صحابہ کافروں اور ان کی عورتوں کو بھی قیدی بناتے تھے لیکن اُنھیں کبھی بھی زبردستی اسلام کے لیے آمادہ نہیں کیا جاتا تھا۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ثمامہ بن اثال جو مشرک تھا کو قیدی بنایا، پھر اُس کو آزاد کر دیا اور اُسے اسلام کے لیے مجبور نہیں کیا گیا، یہاں تک کہ وہ خود ہی ایمان لے آیا اور اسی طرح بعض بدری قیدیوں کو بھی آزاد کیا گیا تھا۔  اور یہ بات ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بادشاہوں کی طرف خطوط ارسال کرتے اور اُنھیں اسلام کی دعوت دیتے۔ لہذا اُنھوں نے قیصر روم، اور کسریٰ فارس اور مصر میں، مقوقس،اور نجاشی، اور عرب کے بادشاہوں، اور شام کی طرف خطوط ارسال کیے جن کا مقصد اسلام کی طرف دعوت دینا تھا۔

اور اس میں جو اسلام قبول نہ کے اُسے قتال کی وعید نہیں دی گئ۔اور یہ صرف اس لیے کہ اسلام رحمت کا دین ہے اور شدت کا دین نہیں ہے، انسانی نفس کی دین میں حرمت ہے۔

آپ نے فرمایا:  انسان اللہ کی بنیاد ہے جو اس بنیاد کو منہدم کرتا ہے اُس پر لعنت ہے

نبی نے یہ نہیں کہا کہ مسلمان، اللہ کی بنیاد ہے بلکہ انسان کو بنیاد کہا۔

صرف اُن کافروں سے قتال کیا جائے گا، جو مسلمانوں سے قتال کریں۔ اور جن سے معاہدہ ہے اور باقی لوگوں کو کچھ نہیں کہا جائے گا۔

جیسا کہ اللہ فرماتا ہے :  اُن لوگوں سے قتال کرو، جو تم سے قتال کرتے ہیں اور حد سے نہ بڑھو کیوں کہ اللہ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment