Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

اسلام میں اختلاف کا میانہ

بقلم: ڈاکٹر محمد عبد الوہاب الراسخ

ترجمہ ڈاکٹر: احمد شبل الازھری

اختلاف اللہ تعالیٰ کی سنتوں میں سے ایک ہے، ارشاد ربانی ہے: ﴿ اور اگر آپ کا رب چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی امت بنا دیتا (مگر اس نے جبراً ایسا نہ کیا بلکہ سب کو مذہب کے اختیار کرنے میں آزادی دی) اور (اب) یہ لوگ ہمیشہ اختلاف کرتے رہیں گے○  سوائے اس شخص کے جس پر آپ کا رب رحم فرمائے، اور اسی لئے اس نے انہیں پیدا فرمایا ہے،﴾ (سورۃ  ہود: 118-119) معنی تخلیق میں اختلاف کی وجہ سے، اللہ تبارک وتعالیٰ نے لوگوں کو مختلف پیدا فرمایا جنس رنگ اور زبان، اور افکار اور آراء اور اعتقدات میں بھی مختلف، رب کریم کا ارشاد ہے کہ: ﴿اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی تخلیق (بھی) ہے اور تمہاری زبانوں اور تمہارے رنگوں کا اختلاف (بھی) ہے، بیشک اس میں اہلِ علم (و تحقیق) کے لئے نشانیاں ہیں﴾ (سورۃ الروم: 22)۔ اختلاف قدرت الٰہی کا مظہر ہے کہ انسان کو تفکر اور تدبر کا سلیقہ دے، بایں ہمہ کہ انسان ذات اختلاف کو قبول نہ کرے اور نہ ہی مختلف وجہات نظر میں پھنس جائے تو اختلاف کے اصول اور ضوابط وضع کئے جس میں اہم  دوسرےکی رائے کا احترام اور قبول کے لئے اپنا سینہ وسیع رکھنا ہے۔ایک مسلمان کو چاہئے کہ وہ جان لے کہ جیسے اس کے پاس عقل ہے وہی دوسرے کے پاس بھی ہے اور جیسے اس کی ایک رائے ہے دوسرے پاس بھی رائے ہے، اسی لئے اس پر لاز م ہے کہ دوسرے کی رائے کا احترام کرے اور خود کو اوپر نہ سمجھے، نا اپنے موقف کو اہمیت دے اور نہ ہی کسی معاملے کا دفاع کرے، نہ ہی یہ کہ اس کا برعکس ٹھیک ہے،  اپنی رائے کو واضح کرو اور اس کا دفاع کرو دلیل کے ساتھ نہ کہ اپنے مقابل کو نیچے دکھانے کے لئے، یہ وہ جس کی تعلیم ہمیں نبی کریم ﷺ نے دی ہے کہ اہل کتاب اور مشرکین سے مباحثہ کیا اچھے اور نرم لہجے میں  اس کے بغیر اپنی دعوت اور تبلیغ کو پر تاثیر بنایا۔

ادب الاختلاف میں سے اہم بات یہ کہ اپنے کو حق کا ٹھیکیدار نہ سمجھنا یعنی یہ نہ سمجھو کہ حق میرے ساتھ اور میرے علاوہ باطل پر ہیں، بلکہ ویسے کہو جیسے امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: میری رائے ٹھیک ہے لیکن اس میں غلطی کا احتمال ہے، میرے غیر کی رائے خطا ہے لیکن اس کے ٹھیک کا احتمال ہے، اس دور کی پریشانی یہ  کہ ہر کوئی خود حق کا اجارہ دار بنا بیٹھا ہے، آج کے دور میں کئی گروہ اور مذاہب یہ دعوہ کرتے ہیں کہ وہ حق پر ہیں اور دوسرے باطل ہیں، اور فرقہ وار نہ گروہ بندہ کی صورت میں ایک دوسرے کو برا بھلا تک کہتے ہیں، یہاں تک کہ فتاویٰ جات میں جانبیت کرتے ہوئے مسلمانوں پر کفر کے فتوے لگائے جاتے ہیں، اور مخالف کے خون اور مال کو مباح تک کیے پھرتے ہیں۔  اختتام اس بات کے ساتھ کہ چاہئے کہ اختلاف آپس میں صلہ رحمی اور کمال کا وسیلہ ہے نہ بغض اور جھگڑے کا راستہ ہے،  یہ بھی جان لینا چاہئے کہ رائے کا اختلاف کسی معاملے کی دوستی کو خراب نہیں کرتا ہے۔

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment