Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

ملکی عدم استحکام کے مقابلے میں قومی ترقی میں ہاتھ بٹانا

ڈاکٹر محمد حضیری الازہری

شدت پسندی کی طاقت کا مظاہرہ ملک میں تخریب کاری کی علامت ہے،  مختلف قوتوں اور وحدت کا فقدان ہے، آج کے دور میں ہمارے لئے ضروری ہے کہ قومی ترقی اسلوب کو اپنا کر فکری اور مادی شدت پسندی کا سامنا کریں۔

اللہ نبی سیدنا سلیمان علیہ السلام ایک معاشرے میں جب بسیرا کر رہے تھے تو اس معاشرے کے ہر فرد نے اپنے معاشرے کو بنانے ہر پہلو سے صنعتی علمی اور امن وامان جیسے جوانب سے کردار ادا کیا ۔

سب اپنے ذمہ داری کو سمجھتے تھے اور اللہ اور اس کے رسول سیدنا سلیمان علیہ السلام سے محبت کی خاطر اپنے حق بڑھ کر ادا کرتے تھے اور ان میں اپنے معاشرے کے بنانے کا جذبہ اور لگن تھی، مندرجہ ذیل باتوں سے بخوبی ہم جان سکتے ہیں:

ان کی اپنے قائد اور اپنے ملک سے محبت اور ترقی کے امور میں ہاتھ بٹانا جو شدت پسندی کو کاٹ دینے کا ہنر ہے۔

قائد کا اپنے معاشرے کے افراد کے ساتھ محبت  تمام قوتوں کے ساتھ ان کی تقسیم کو مدنظر رکھتے ہوئے  ہمنوائی کی صورت میں تمام کام ان میں  برابرتقسیم کر کے کامیابی کی طرف لے جانا۔

قیادت کا اپنی بنیادی فکر اور اخلاقی اقدار اور انسانیت کا ہر لحظہ خیال کے ساتھ دوسروں کی سبقت کا اعتراف  (اے آلِ داؤد! (اﷲ کا) شکر بجا لاتے رہو،) (سبا 13)، (اے پروردگار! مجھے اپنی توفیق سے اس بات پر قائم رکھ کہ میں تیری اس نعمت کا شکر بجا لاتا رہوں) (النمل 19)۔

مختلف میدانوں میں بہت سی ترقی کی راہیں ہوتی ہیں: جیسے صنعت، اللہ تعالیٰ کا فرمان عالیشان ہے (اور ہم نے اُن کے لئے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ بہا دیا،) (سبا 12)، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:  (وہ (جنّات) ان کے لئے جو وہ چاہتے تھے بنا دیتے تھے۔ اُن میں بلند و بالا قلعے اور مجسّمے اور بڑے بڑے لگن تھے جو تالاب اور لنگر انداز دیگوں کی مانند تھے۔) (سبا 13)،  تعمیرات اور  انہماک ، ارشاد باری تعالیٰ ہے  (اور کل جنّات (و شیاطین بھی ان کے تابع کر دیئے) اور ہر معمار اور غوطہ زَن (بھی)) (ص 37)،  معلومات اور مواصلات ، ارشاد ربانی ہے: (اور میں آپ کے پاس (ملکِ) سبا سے ایکیقینی خبر لایا ہو) (النمل 22)،  علمی مباحثہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: (اس شخص نے کہا جس کے پاس کتاب کا علم تھا) (النمل 40)۔

یہ مثالیں ہیں جو قرآن کریم ذکر کی ہیں تاکہ ہر بندہ اپنے ملک کی ترقی میں اپنا حصہ بجائے شدت پسندی کے۔

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment