Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

فکری انحراف اور اسکے افراد اور معاشرے پر اثرات

بقلم : ڈاکٹر محمد وردانی ازھری

فکری انحراف کی تعریف اس طرح ہے کہ: یہ وہ فکر ہے کہ جو دینی قواعد، معاشرتی معیار اور نظم  کے ساتھ لازم نہیں، مطلب یہ کہ  یہ فکر غیر معمولی ہے جو معاشرے کو  اچھی روایات سے الگ کرتی ہے، اور اسلام حنیف اور عظیم اقدار کی تعلیمات کے مخالف ہے ؛ اور اس تعریف سے یہ باتیں واضح ہوتی ہیں:

  1. فکری انحراف اجتماعی عقیدہ کی خلاف ورزی ہے، اس میں اخلاقی اقدار کی وقعت نہیں رہتی ، نا ہی اس سے ثقافتی غلبہ رہتا ہے۔
  • فکری انحراف میانہ روی اور اعتدال کا خروج ہے، یا تو دین میں غلو اور تشدد کی طرف مائل کرتا ہے یا شرعی واجبات میں حد سے بڑھ جانے اور گھٹ جانے کی طرف متوجہ کرتا ہے۔
  1. فکری منحرف معاشرتی زندگی سے الگ ہوجاتا ہے؛ اس لئے کہ اس کا تصور اور آراء ہیں، اور وہ معاشرے میں رائج افکار کی مخالفت کرتا ہے۔
  2. فکری انحراف اسلام کے مخالف ہے، کیونکہ جس میانہ روی اور اعتدال کے طریقے کی اسلام دعوت دیتا ہے اس کو نہیں تھاما جاتا،اور نہ ہی واجبات شرعی کی ادائیگی ، اور حرمات سے دوری تک۔

فکری انحراف کے آثار اور نقصان:

لوگوں کی فکر کی حفاظت اور انحراف سے بچانا یہ معاشرے میں سیکورٹی اور استحکام حاصل کرنے کے لئے بنیاد ہے،

سیکورٹی کو برقرار رکھنے اور توثیق کرنے میں فکر سلیم ایک اہم ستون کی حیثیت  رکھتی ہے،فکر کی سلامتی کی خاطر سیدھے راستے کا چناؤ ہو تو جان اور مال کی حفاظت ہوگی، اور تمام مقاصد محفوظ ہوں گے اور تمام جوانب میں امن  کا دوبالا ہوگا۔

ہاں جب فکری انحراف آجائے تو اور معاشرتی اصولوں کی مخالفت ہو اور امت کی حفاظت کے الٹ ہو جانا ہو ،تو مصائب ٹوٹ پڑتے ہیں، اور افراتفری عام ہو جاتی ہے اور فساد پھیل جاتا ہے۔

انحراف فکری کے اہم  نقصانات اورمعاشرے اور فرد پر منفی اثرات مندرجہ ذیل طریقے سے ہوں گے:

  1. اس سے قومی نظریات کو نقصان پہچتا ہے، اور معاشرتی مذہب وہ افکار برداشت کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے جو شریعت اسلام کے خلاف ہوں، اور اس کی بنیادکے متصادم اور میانہ روی اور پختگی کے قیام کے منہج کے منافی ہیں۔
  • اس میں اسلام اور اس کے عظیم اقدار رحم، انصاف، رواداری، مشاورت اور دیگر کی مسخ تصویر ہے،  اور یہ فکر اسلام میں داخل اور سینے سے لگانے سے بھٹکانے کا سبب ہے،  اس سے دہشتگردی اور بے چینی بے امنی جگہ بنا لیتی ہے اور اسلام کے بارے میں غلط پروپیگنڈا پھیلایا جاتا ہے اور لوگوں کو اس سچائی سے متنفر کرنے کی کوشش ہوتی ہے، ایسی تہمتوں کے پھیلانے سے اسلام  بری ہے۔
  1. یہ فکر فساد فی الارض اور جن ضروریات خمسہ کی حفاظت کا اسلام نے حکم دیا ہے اس کے لئے خطرے کا سبب ہے ، اور حدو د رکھنا ، اور ان کی حرمات کی توہیں کرنے والوں پر سزا لگانا یہ خون بہانے اور علامتوں کی توہین کا راستہ ہے، اور اس سے مال اور املاک کو خطرہ ہی ہے۔
  2. یہ فکر اس طریقے سے ٹکڑے ٹکڑے کر دے اور تقسیم کردے گی اور صفوں کو نے وقعت بنا دے گی اور تقسیم در تقسیم کا معیار رہے گا، اور قومی وحدت کے لئے خطرہ ہے اور معاشروں کے طبقات کے درمیان نفرت کا بیج اور جہالت کی طرف دھکیلنے کا سبب ہوگی جس کے بہت سے خطرناک موڑ ہوتے ہیں تعصب وغیرہ جیسے۔

فکری انحراف کی راہیں اور انتشار کے عوامل:

  1. جہالت

اس سے دین سے جہالت اور جو چیزیں علم شرعی کے حساب سے متعلقہ ہیں ان میں کمزوری باعث،  اور سمجھداری میں نا اہلیت اور دلیلوں اور شرعی مقاصد سے جہالت ہو جاتی ہے،  وہ عوامل جو انحرافات کے ظہور کی طرف لے جاتےہیں،  ان میں سے جاہل معاشرے کا ہونا یا کم علموں کا جن کو زرخیز سمجھا جاتا ہے بڑھنے میں اور انحرافات کو پھیلانے میں، اور جو دین سے جاہل ہوں ان کو صحیح سمجھا جا تا۔

  • خواہشات کو شرعی دلیلوں پر مقدم کرنا:

 اس میں خواہشات اور من مانی کے پیچھے لگنا اور عقل کو نقل کے پیچھے لگانا ہے، شرعی ثابت نصوص کو وسائل انحراف کے ذریعے رد کیا گیا،  اس میں گمراہی کے عوامل کو جگہ دی جاتی ہے ، اور خرابی کے احوال اور افتراق اور  من گھڑت کے بارے فکر مندی  بھی اسی کی برائی میں سے ہے،   سب سے زیادہ جن من گھڑتوں پر اصرار ہوتا ہے ان میں سے  ایسی خواہشات ہیں جن کی طرف ان کے نفس کا میلان ہو،  ان میں زیادہ بدگمانی کا طریقہ ہے۔

  1. نا اہل سے علم لینا:

اہل وہ سائنسدان ہیں جو اپنی سائنسی صلاحیت کے لئے مشہور ہیں،  اور ان کا عقیدہ بھی صاف ستھرا، پاکیزہ طریقہ اور تقوی اور  اللہ پاک کا ڈر سمایا ہوتا ہے ان میں، ہاں جب علم اور فتوی کے لئے نااہل اور کم علم بڑھتے ہیں یا وہ جو چھوٹے معیار کے لوگ ہیں، یا اپنی من مانی والے، تو وہ عام فکر پر غلط اثرات چھوڑتے ہیں اور انحراف اور فتنے کا سبب بنتے ہیں۔

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment