Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

غیر مسلم کے اموال کو اپنے لیے حلال سمجھنا

د.محمد مجاهد

ترجمة د. احمد شبل

اسلام مسلمان کو دعوت دیتا ہے کہ وہ اخلاق حسنہ کو اپنائے تاکہ امانت اور وفا میں لوگ اس کی تابعداری کریں، اور اچھے اخلاق کا ایک بہت مثبت اثر ہوتا ہے اور اس کی وجہ سے بہت سے کافر، اسلام میں داخل ہوتے ہیں اور شریعت اسلامی نے چوری، اور مال غصب کرنے کو حرام کیا ہے اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، کہ مال چھوٹے بچے کا ہو، یا بڑے کا، غیر مسلم کا ہو یا مسلم کا۔

غیر مسلم کے مال کو حلال کرنے والے لوگ، اسلام کی تصویر کو خراب کر رہے ہیں اور اسلام پر لگائے گئے الزامات کی تائید کرتا ہے۔ اس لیے مسلمانوں پر حرام ہے کہ غیر مسلم کا مال لے لیں، اس کی مثال یہ ہے کہ مغیرہ بن شعبہ زمانہ جاہلیت میں کافروں کے ساتھ سفر کر رہے تھے، تو اُنھوں نے کافروں کو قتل کر دیا، اور اُن کا مال لے لیا، پھر آ کر اُنھوں نے اسلام قبول کیا۔

تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام تو میں نے قبول کر لیا ہے، لیکن اس مال سے مجھے کوئی سروکار نہیں ہے۔

اسکا مطلب یہ ہے کہ یہ مال میں نہیں لینا چاہتا کیوں کہ یہ غدر کا مال ہے۔ اس حدیث میں یہ فائدہ ہے کہ جس شخص کے ساتھ آپ سفر میں جا رھے ھیں،  تو اُسے اُس کے مال کو امانت سمجھنا چاہیے ، چاہے وہ مسلم ہو یا غیر مسلم ۔ اس لیے  بھی مال واپس کر دیا گیا کہ ہو سکتا ہے وہ کافر مسلمان ہو جائے۔

اور کافروں کا مال لینا، غدر خیانت ہے۔  آپ نے فرمایا: جو شخص غدر کرتا ہے، قیامت کے دن اُس کے لیے ایک جھنڈا ہو گا، جس کے ذریعے وہ پہچانا جائے گا۔

اسلام نے غیر مسلموں کے مالی حقوق کی بھی حفاظت کی ہے، اور شریعت اسلامی عدل اور انصاف پر قائم ہے، اور ہر طرح کے ظلم کی نفی کرتی ہے۔ لہٰذا اسلام نے اس بات کی ترغیب دی ہے، کہ آپ نے غیر مسلم کے مال کی حفاظت کرنی ہے اور اس پر اعتدا نہیں کرنی ہے اور یہ غیر مسلموں کے لیے اسلام کی رحمت کی جوانب میں سے ایک جانب ہے۔

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment