Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

کیمیکل ناخن پالش (مونیکیور) اور طہارت پر اس کے اثرات

ڈاکٹر محمد ابراھیم سعد ازھری-​

ناخن رنگنا ایسی زیب وزینت ہے جس کا عورت کو اپنے شوہر یا محارم پر ظاہر کرنا جائز ہے۔ کیونکہ عادات میں اصل حکم اباحت ہے جب تک ان میں غرر یا غش یعنی دھوکہ دہی شامل نہ ہو۔ مثال کے طور پر دھوکہ کے ساتھ ہاتھوں کو خوبصورت ظاہر کرنا حالانکہ وہ ایسے نہ ہوں۔ یا پھر اس میں فاجر وکافر عورتوں سے تشبیہ کی نیت کی جائےتو اس وقت بھی ایسا کرنا ممنوع ہوگا، اور یہ منع تشبه کے وجہ سے ہوگا، حالانکہ بنفسہ منع نہیں ہوگا۔ یا یہ پالش وغیرہ ایسے مواد سے بنی ہو جو حرام ہو، مثلا اس میں خنزیر کی چربی وغیرہ حرام چیز پائی جائے۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ عمل طہارت پر بھی اثر انداز ہوتا ہے یا نہیں؟ اس کی تفصیل کے لئے دو صورتیں ہیں:
پہلی صورت: کہ یہ کیمیکلزناخن تک پانی پہنچنے میں رکاوٹ نہ بنے اور نہ ہی کھال تک پانی پہنچنے میں کسی قسم کی رکاوٹ بنے، مہندی کی طرح۔ تو ایسی صورت میں اس کا کچھ منفی اثر نہیں۔
دوسری صورت: اس کے کیمیکلزپانی کی ناخن یا کھال تک رسائی میں رکاوٹ بنتے ہوئے مستقل طور پر ایک تہہ بنالیں۔ “مونیکیور” کی یہ صورت جائز نہیں۔ کیونکہ اس سے پانی کی رسائی جلد یا ناخن تک نہیں ہوتی، جس کی وجہ سے اس کے لگے ہوئے ہونے کی صورت میں وضو صحیح نہیں ہوسکتا اور نہ ہی غسل ادا ہوگا یہاں تک کہ اس تہہ کو پوری طرح اتار نہ لیا جائے۔ اس کی دلیل یہ ہے :
اللہ پاک کا ارشاد ہے: 

"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ۚ ( من الآية رقم " 6" سورة المائدة) "

 اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ ہاتھوں کو دھویا جائے۔ اس حکم میں ہاتھ کے تمام اعضاء شامی ہیں۔ اور اسی طرح پاؤں کو دھونے کا بھی حکم دیا ہے جس میں مکمل طور پر پاؤں کے تمام حصے شامل ہی یہاں تک کہ ناخن بھی۔ اور جو ایسے کیمیکلز “مونیکیور” کی صورت میں استعمال کرتا ہے جو پانی کی مطلوبہ جلد یا ناخن رسائی میں حائل بنیں۔۔۔تو اس صورت میں ہاتھ یا پاؤں مکمل طور پر نہیں دھل سکتے، اور اس قرآنی حکم پر عمل نہیں ہوپاتا۔
ـــ ما روی

عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ تَخَلَّفَ عَنَّاالنَّىُّفِی سَفَرٍ سَافَرْنَاهُ فَأَدْرَكَنَاوَقَدْحَضَرَتْ صَلاَةُالْعَصْرِ فَجَعَلْنَا نَمْسَحُ عَلَی أَرْجُلِنَا فَنَادَى «وَيْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ(البخاري في صحيحه، 1/33 حديث رقم 60 )

حضرت عبداللہ بن عمر سے مروی ہے کہ ہیں کہ ایک سفرمیں ہم سےرسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پیچھےرہ گئےتھےپھرجب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارےقریب پہنچےتونمازعصرکاوقت چونکہ تنگ ہوگیاتھااورہم وضوکررہےتھےتوجلدی کےمارےاپنےپیروں پرپانی چپڑنےلگےپس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نےاپنی بلندآوازسےدومرتبہ یاتین مرتبہ پکارا

"وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنْالنَّارِ"

اس حدیث میں لفظ “الاعقاب” آیا ہے جو عقب کی جمع ہے جو پاؤں کے پچھلے حصے کے لئے مستعمل ہے۔ نبی اکرمﷺ نے ایسے شخص کے لئے ویل یعنی عذاب کی خبر دی ہے (جو پچھلے حصہ کو چھوڑدے)کیونکہ عموما لوگ اس طرح کی جگہ دھونے میں سستی برتتے ہیں اور کوئی اہمیت نہیں دیتے۔ یہ حدیث اس بات پر دلیل ہے کہ لازمی ہے کہ پاؤں کو مکمل طور پر دھویا جائے اور لازمی ہے کہ وضو میں واجب حصہ کو مکمل طور پر دھویا جائے۔ی

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment