Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

بیٹی کی خصوصیات (چھوٹی) اکرام ،احترام اور احسان کے معاملے میں

خواتین کے لیے اسلام کی عزت کا ایک مظہر

بیٹی کی خصصیات (چھوٹی) اکرام ،احترام اور احسان کے معاملے میں۔

ڈاکٹر: منی غالی

ترجمہ ڈاکٹر احمد شبل

 آج ہم لڑکیوں کے ساتھ حسن سلوک کے بارے میں بات  مکمل کریں گے جس کا احادیث مبارکہ میں اشارہ ہوا ہے ۔  جہاں ہم نے پہلی چیز کا ذکر کیا ہے وہ احسان الصحبه یعنی بیٹی کے ساتھ اچھے طریقے سے معاملہ کرنا۔

 دوسرا معاملہ: اچھی تربیت کرنا، اس کا مطلب صحیح اسلامی تربیت کرنا۔  جہاں والدین تین چیزوں کو مدِنظر رکھنا ۔

 پہلا : بچے کے جذبات کو » اللہ تعالیٰ سے محبت اور اللہ تعالیٰ سے ڈرنا  » اور اس کے رسول صلی االلہ علیہ وسلم کی محبت کی طرف راغب کرنا، کیونکہ محبت اللہ کی اطاعت کی طرف لے جاتی ہے، اور خوف نافرمانی اور گناہوں سے روکنے  کی طرف لے جاتا ہے۔

 دوسرا : قرآن کریم اور سیرت نبوی پر توجہ مرکوز کرنا۔  (فہم اور حفظ) عمر کے مرحلے کو دیکھتے ہوئے)

 تیسرا : بچی کی اخلاق قران کریم کے عین مطابق کرنا ، اور اسی طرح اچھا اخلاق، نیکی اور خیر  کی  باتیں اُن کی نفس میں ڈالنا۔  سچ بولنا ، اپنے والدین کی عزت کرنا، شجاعت، عفت اور پاکیزگی اختیار کرنا ہے ۔  یہ سب کچھ جسمانی تعلیم کے ساتھ ساتھ جسم اور اس کی جیورنبل کا خیال رکھنا۔

کیونکہ لڑکیاں اک امید ہوتی ہے ، اور ان کی صحیح اور مناسب تربیت کی وجہ سے ہی قومیں ترقی کرتی ہیں۔  اور وہ ہے اعتدال پسند، مصلحین کی ایک نسل کی تشکیل جو کہ آخرت کو اپنی فکر بناتی ہے اور اس مذہب کو عام لوگوں تک پہنچاتی ہے۔

 تیسرامعاملہ* : اچھی طریقے سے انکو تعلیم دینا

 اس کا مقصد لڑکی کو ایک فائدہ مند علم (علم نافع) سکھانا ہے جس کا مقصد دماغ کی پرورش اور خود نظم و ضبط ہے۔  اس سے پہلے اسے اللہ تعالیٰ کی معرفت کے حوالے سے علم دینا – (عمر کے مختلف مراحل کے مطابق) –  طہارت، نماز اور دیگر عبادات کے ساتھ ساتھ عام کتابوں اور مختلف علوم کے مطالعه (جنرل نالج)  کی معرفت کرنا  یہ بہت اہم ہے.اس کے پڑنے سے اس میں ترغیب پیدا ہوگی   یہ اسے پڑھنے میں محبت  کرنے کے ساتھ ساتھ اسے زمین پر جانشینی کی ذمہ داری سنبھالنے کا اہل بناتا ہے۔  اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (اے ایمان والو، اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں)۔ اور یہ (الویقہ) آگ سے بچنا یہ تین چیزوں سے ممکن ہے جو اوپر گزر چکی ہے،اور اس کی بارے سے ماں اور ان میں سے ہر اک مسئول ہے اگر ماں باپ نے اس میں تقصیر کیا تو گناہ ماں باپ کو ملےگا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : {تم میں سے ہر ایک مسئول ہے اپنی رعائےکا اور آدمی اپنے گھر کا چرواہا ہے اور اُنسے اپنی رعایا کے بارے میں پوچھا جائے گا . اور عورت اپنے شوہر کے گھر کی کفالت کا زمدار ہے   ان سے اس کے بارےمیں پوچھا جایگا } (متفق علیہ)

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment