Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

ازہر شریف کا مختصر تعارف

ڈاکٹر محمد ناشی
پروفیسر اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی، اسلام آباد، پاکستان

ازہر شریف کا شمار دنیا کی قدیم یونیورسٹیوں میں ہوتا ہے، اس کا علمی چشمہ تقریباً ایک ہزار سال سے جاری وساری ہے۔

جوہر الصقلی جو کہ قاہرہ کا بانی ہے اس نے  ۳۵۹ ھ ـ ۹۷۰ ء میں اس کا سنگ بنیاد رکھا اور  ۳۶۱ ھ ـ  ۹۷۲ ء میں ا س کی تعمیر مکمل ہوئی، اور  ۳۶۵ ھ ـ ۹۷۶ ء میں تعلیمی سرگرمیوں کی ابتدا کی گئی۔

اس وقت سے مسلسل علماء ازہر مصر اور دنیا کے کونے کونے سے آئے ہوئے طلباء کا خیر مقدم کرتے ہوئے ان کی علمی تشنگی مٹا رہے ہیں، ان علوم میں مختلف شعبہ ہائے جات شامل ہیں جیسے کہ شریعت اور اس کے علوم: تفسیر، حدیث، فقہ اور اصول فقہ، اور عربی زبان وادب، اور ریاضی، علم فلک اور پچھلی صدی میں اس میں کچھ مزید علمی شعبہ جات کا اضافہ کیا گیا جیسے کہ طب اور فارمیسی اور سائنس اور ہندسہ، لغات اور تراجم اور اداریاتی پروگرام وغیرہ۔

اس بارے میں کولیرز (colliers) کے انسائیکلوپیڈیا میں ہے کہ: “۔۔۔ازہر میںمسلم دنیا سے ہزاروں لوگ علمی پیاس بجھانے آتے ہیں، اور اسے دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی مانا جاتا ہے، اس میں قرآنی علوم اور شریعی علوم کے ساتھ سائنس اور تجرباتی علوم بھی پڑھائے جاتے ہیں”۔

اس بارے میں پروفیسر عباس محمود العقاد کہتے ہیں کہ: “۔۔۔ عرف اور عقیدہ اور بے پایاں شہرت نے ثابت کر دیا ہے کہ ازہر امت کی آواز ہے، جب غاصب حکمران نے رعایا سے اس بارے سنا کہ یہ امت کے جوان کے لئے روحانی قوت کا منبع ہے ،  اور حاکموں کے لئے بھی جو اس پر عقیدہ رکھیں۔۔۔”۔

اس کی تعریف میں ڈاکٹر ثروت عکاشہ کہتی ہیں کہ یہ دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی ہے ” ۔۔۔ اس یونیورسٹی نے شروع سے اسلامی کلچر کو فروغ دیا ہے، اسی وجہ سے ہمیشہ قاہرہ جوانوں میں اسلامی کلچر کے فروغ کا سبب بنا ہے، اور ان میں فکری شمع روشن کی، اور ان کی فکری بیداری کا سبب بنا، اور اہل فکر کے لئے راستے روشن کئے۔۔ اور مشرق اور مغرب سے آنے والوں کا کعبہ بن گیا ہے”۔

یہ عظیم تاریخی سرمایہ ازہر شریف اہل مصر اور عام اہل اسلام کے لئے باعث افتخار ہے اور یہی وجہ ہے کہ تمام مسلم دنیا اسے اپنا غرور اور فخر سمجھتی ہے، اور اسے اپنا دوسرا کعبہ سمجھتے ہیں کہ اس ادارے نے اسلامی میراث کی حفاظت کی، اور خرچہ کر کے اپنے ملکوں سے یہاں آتے ہیں تا کہ واپس جا کر اپنی قوم کی راہنمائی کریں، اور ازہر طلباء کے مختلف جنس اور ثقافتوں کے تعلق کے باجود انہیں  یکساں طور پر خوش آمدید کہتی ہے، ازہر شریف کی اسلامی اصولوں کے مطابق برابری کی روایت ہے کہ: ’’تم سب کے سب آدم کی اولاد ہو، اور آدم مٹی سے ہے، کسی عربی کو عجمی پر برتری نہیں، اور نہ ہی کسی گورے کو کالے پر مگر کہ تقوی سے ہے‘‘۔

ازہر شریف نے ہمیشہ باہر سے آنے والے طلبہ کی کفالت کی ہے اور انہیں مفت تعلیم مہیا کی ہے، اس کے ساتھ ان کی رہائش کا بندوبست کرتی ہے جس میں اوقاف کا ادارہ مصری حکام اور سرمایہ دار طبقہ برابر کے شریک ہوتے ہیں۔

جس طرح ازہر باہر سے آنے والے طلباء کو خوش آمدید کہتا ہے اسی طرح دنیا کے مختلف کونوں سے آنے والے علماء کو بھی خوش آمدید کہتا ہے اور ان کے لئے علمی حلقوں کا بندوبست کرتا ہے، اور مصری عالم اور غیر مصری میں کوئی فرق نہیں سمجھا جاتا، سب کو مساوی حیثیت دی جاتی ہے۔

شاعر کہتا ہے:

دنیا کے سامنے کھڑا ہو ازہر شریف کے محلے سے، اور سارے زمانے میں ہیرے کی طرح پھیل جاؤ

ہیروں کو اپنی جگہ پر منظم کر اگر نکلا ہوا ہے،  اس کہ مدح سرائی میں آسمان کے تارے بھی چمک کر خوبصورتی پیش کرتے ہیں۔

اور دونوں مقدس مسجدوں کے بعد اس کی تعظیم کر، اللہ تعالیٰ کی تینوں مسجدوں کی بڑائی ہے،

اور اچھے سے تواضع اختیار کر اور ان اماموں کا حق ادا کر، ان سے زہرہ (ستارہ) طلوع ہوتا ہے اور وہ سمندر کی لہریں ہیں۔

تعظیم میں وہ بادشاہوں سے زیادہ عزت والے ہیں، اور زیادہ طاقت والے ہیں اور ان کی شان نرالی ہے۔

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment