Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

ميلاد النبی صلى الله عليه وسلم

الدكتور: خالد عبد النبى عبد الرازق

ترجمة الدكتور: أحمد شبل  

ایام کی فضیلت ، اُن  میں وقوع پذیر ہونے والے عظیم احداث کی بدولت ہوتی ہے، زمانہ حادثات کے لیے ظرف کی حیثیت رکھتا ہے اور حادثات زمانے کی ابتداء، انتہا اور دوام کے ساتھ مربوط ہوتے ہیں۔ زمانے میں شامل واقعات کی بنا پر ہی اسے اچھا یہ برا گردانا جاتا ہے۔

 حادثات کے بغیر، زمانہ کوئی قابل ذکر شے نہیں ہوتا۔ جیسے اصحاب کہف نے تین سو سال کو ایک دن یا اُس کا کچھ حصہ شمار کیا۔ دن واقعات اور احوال سے جُڑے ہوتے ہیں، ان کے گزرنے کے سبب ہی اطفال، بڑھاپے تک کا سفر طے کرتے ہیں۔

 اللہ تعالٰی نے عظیم حادثات ، خیرات اور برکات کے نزول کے لیے مبارک ایام چن لیے ہیں پس قرآن کریم جس مبارک رات میں نازل ہوا ہے وہ لیلۃ القدر ہے

یہ بات شک سے بالا تر ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ایک عظیم الشان واقعہ ہے، کیوں کہ بعد کے تمام واقعات، نعمتیں اور برکات رسول اکرم کی ولادت پر موقوف ہیں،  یہ ہدایت کا یوم ولادت تھا جس سے حیران سرکردوں کو ہدایت نصیب ہوئی اور ایسا نور جس سے تاریکیاں چھٹ گئیں اور حق نے باطل کا نشان مٹا دیا، اس دن کا طویل عرصہ سے لوگوں کو انتظار تھا تاکہ انسان کی فطرت اور شہوات میں برپا فساد کی اصلاح ہو سکے۔ خاتم النبین کے یوم ولادت با سعادت کو تمام ایام پر برکت اور فضیلت حاصل ہے۔ نبی اکرم اس دن کو افضل سمجھتے تھے اس لیے اس دن کو منانے کے لیے روزہ رکھتے تھے اور اس نعمت اور فضل پر اللہ کا شکر ادا کرتے تھے۔

صحیح مسلم میں، ابو قتادہ انصاری سے حدیث ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پیر کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا:

“اسی دن میری ولادت ہے، اسی دن مجھے معبوث کیا گیا اور اسی دن مجھ پر وحی نازل کی گئی”.

یہ ایسا دن تھا جس کی خوشی تمام لوگوں نے منائی کہ حق کی روشنی سید الخلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر پھیلی، پس ابراہیم علیہ السلام کی دعا قبول ہوئی ، اور عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت حق ثابت ہوئی ، اور رسول اکرم کی والدہ ماجدہ کا خواب پورا ہوا۔

جیسا کہ فرمایا: “میں ابراہیم کی دعا، عیسیٰ کی بشارت اور وہ نور ہوں جو میری ماں نے دیکھا کہ اس سے شام کے محلات روشن ہو گئے”.

یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہر مسلم پر لازم ہے کہ وہ اس مبارک دن کو منائے۔

میلاد نبوی کو ماننے کی کیفیت کے متعلق سب سے صحیح بات یہ ہے کہ اس دن کو اللّٰہ کی انعام کردہ، عظیم نعمت کا شکر بجا لانے کے طور پر منایا جائے،

تاکہ ہم رسول اللہ کی قدر و منزلت کی معرفت حاصل کریں اور انکی صفات کو پہچانیں اور اُن جیسا اخلاق اپنائیں کیوں کہ اُن کو معبوث کرنے کا مقصد مکارم اخلاق کی تکمیل ہے اور اسی طرح لوگوں میں اُن کی سنت کی اتباع اور عدم مخالفت کی رغبت دلائیں۔ جیسا کہ انہوں نے اپنی کئی احادیث میں اس کی طرف توجہ دلائی ہے “تم پر میری سنت لازم ہے” اور اُن کا فرمان: “جو میری سنت سے رغبت کرے تو وہ مجھ میں سے نہیں” اس دن ہمیں لوگوں میں رحمت اورشفقت کی صفات کو پھیلانے میں بھی سعی کرنی چاہیے۔ کیوں کہ وہ نبی رحمت ہیں اور ہم بہترین امت ہیں جو لوگوں کے نفع کے لیے نکالی گئی ہے”.

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment