Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

دعوت داعی اور مدعو کے بیچ

بقلم: ڈاکٹر محمد حضیری الازہری

میڈیا بہت صورتوں میں دعوت کا  کام سر انجام دے رہی ہے، خاص طور پر  ہم جوانب کو سامنے لاتے ہوئے دعوت کے کام میں مدد گار ہے،  جن انداز میں توجہ مرکوز دی جاتی ہے ان میں انداز کی خوبصورتی توجہ کن ہے  اچھے نتائج  کے لئے گہری دلچسپی، اور مالی دھوکہ بازی سے کنارہ کشی، اور آزادى رائے کہ ہر کسی مرضی کہ وہ اس رائے کو قبول کرے یا نہیں۔

اسلام داعی سے دعوت اسی انداز کا خواہشمند ہے، اسلام للہیت کی طرف رغبت کی فکر چاہتا ہے، ارشاد ربانی ہے کہ ﴿بیشک اللہ کے نزدیک دین اسلام ہے﴾ (آل عمران -3)۔ اور ارشاد ربانی ہے کہ یہ ہی فائدہ مند تجارت ہے ﴿کیا میں تمہیں ایسی تجارت نہ بتاؤں کہ جو تمہیں درد ناک عذاب سے بچائے، تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہو﴾ (الصف – 61)۔

داعی پر لازم ہے کہ اپنی اس تجارت کو اچھے انداز میں انجام دےاس میں مناسب اور بہترین وسائل کو بروئے کار لائےجیسے ارشاد ربانی ہے کہ: ﴿اپنے رب کے راستے کی طرف بلاؤ حکیمانہ انداز میں اور اچھی نصیحت کے ساتھ، اور ان کے ساتھ اچھے انداز میں پیش آؤ، بیشک تمہارا بہتر جانتا ہے ان کو جو اس کے راستے سے بھٹکے، اور وہ ہدایت یافتہ کو جانتا ہے﴾ (النحل – 16)، اور ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ﴿اور اگر تجھ سے الجھیں کہ تو میرے ساتھ شریک بنا اس کا تجھے علم نہیں بالکل ان کا حکم نہ مان، اور دنیا میں ان کے ساتھ اچھے سے رہ﴾ (لقمان – 31)۔ یہ مخلوق کو قولی اور عملی اشارے دئے گئے ہیں۔

آراء اور اعتقاد کے اختلافات کے جواب میں کوئی حرج نہیں، فرمان باری تعالیٰ ہے  ﴿ اور اگر مشرکوں میں سے کوئی بھی آپ سے پناہ کا خواست گار ہو تو اسے پناہ دے دیں تاآنکہ وہ اللہ کا کلام سنے پھر آپ اسے اس کی جائے امن تک پہنچا دیں ﴾ (التوبہ – 6)۔ اور مدعو پر لازم ہے کہ وہ اچھی بات کے انداز اور اسلوب کے بارے میں سوچے اور اس کے نتائج  تک پہچنے کے لئے فیصلہ کرے کہ اسے عارضی زندگی چاہئے یا دائمی، اسے صرف دنیا سے غرض ہے کہ دنیا اور آخرت سے۔ ہر بندے کا  یہی انداز ہونا چاہئےکسی گہری بات کی گہرائی تک جانے کا، آزادی رائے سے سب پر جوابدہی اختیار کے ساتھ، اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے﴾ اور ارشاد ربانی ہے﴿دین میں شدت نہیں، تحقیق سیدھا راستہ گمراہی سے واضح ہے﴾

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment