Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

علمی تفسیر کے فوائد

ڈاکٹر عبدالوہاب راسخ

حقیقی  علمی تفسیر وہ  ہے جو علمی اور سائنسی انکشافات پر مبنی ہو اور نصوص قرآنی کی تفسیر میں بے جا تکلف سے مبرا ہو۔بلاشبہ علمی تفسیر کے بہت سے فوائد ہیں اور ان میں سے سرفہرست یہ ہے کہ یہ طرز تفسیر قرآن پاک کے علمی طور پر معجزہ ہونے کو  اس طرح  واضح بیان کرتی ہے کہ تشکیک و الحاد کے لیے  کسی قسم کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی ۔ جس علمی اور سائنسی حقائق و معارف سے دنیا انیسویں اور بیسویں صدی میں آشنا ہوئی ہے،قرآن پا ک نے اسے بہت پہلے بیان کردیا ہے۔یہ ہر صاحب عقل ونظر کہ لیے روشن دلیل ہے کہ اس حقائق ومعارف سے بھری دنیا کا خالق وہی ہے جس نے قرآن پاک کو نازل کیا۔

اس کے ساتھ ساتھ علمی تفسیر قرآن پاک  کے مدلولات کو وسیع کرنے میں ممد ومعاون ہے،وہ اس لحاظ سے کہ علم کائنات میں جو بھی معلومات و انکشافات بیان کیے جاتے ہیں،وہ آیت کے مفہوم کو سمجھنے میں مزید معاون ثابت ہوتے ہیں۔

علمی تفسیر کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعے سے تفسیر ماثور وغیرہ میں مظاہر کائنات کے بارے میں بیان کردہ  بہت سے غلط معلومات کی تصحیح ہوتی ہے۔مثال کہ طور پر یہ کہ الرعد سے مراد ایک فرشتہ ہے جو بادل کو ایسے ہانکتا ہے جیسے چرواہا اپنے ریوڑ کو۔اور برق کی یہ تفسیر کہ برق سے مراد فرشتے کا لوہے کے گرز کے سے بادل کو ضرب لگانا ہے۔علمی معاشرے میں ایک داعی کا موقف کیا ہوسکتا ہے جب ا س کا سامنا اس طرح کی تفسیروں سے ہوتا ہے جو علمی معیارات پر پوری نہیں اترتیں  اور مزید برآں یہ کہ انھیں بدیہات و مسلمات کا درجہ حاصل ہوتا ہے اور یہ تفسریں دین اسلام  کے لیے ضرر رساں ثابت ہونے کے ساتھ ساتھ  صاحبان عقل ودانش  کو دین اسلام سے متنفر کرنے  کا باعث بنتی ہیں۔

علمی تفسیر کا ایک ثمرہ یہ ہے کہ اس کے ذریعےموجودہ دور میں دینی اعتقادات اور سائنسی حقائق  ومعارف  ایک دوسرے کے قریب آرہے ہیں۔اور بہت سے اعتقادات کی تائید تجربیت کے ذریعے ہورہی ہیں۔اس کی ایک مثال یہ ہے کہ قدیم دور میں علم الکلام و فلسفے کے خوشہ چین اس بات کو بعید از قیاس سمجھتے تھے بلکہ ناممکن سمجھتے تھے کہ ایک انسان اپنے اعمال آخرت میں دیکھ سکتا ہے کیونکہ اعمال اعراض ہیں اور عرض دو زمانوں میں یکساں نہیں پایا جاتا۔اور  وہ قرآن پاک کی اس آیت :

يَوْمَئِذٍ يَصْدُرُ النَّاسُ أَشْتَاتًا لِيُرَوْا أَعْمَالَهُمْ(الزلزلۃ:6)

ترجمہ: اس دن لوگ مختلف حالتوں میں لوٹیں گے تاکہ انہیں ان کے اعمال دکھائے جائیں۔

  اس طرح کی دوسری آیات  کی یہ تاویل کرتے تھے کہ  اعمال سے مراد اعمال کی جزا ہے اور انھیں اعمال کی جزا دکھائی جائے گی۔

جبکہ جدید دور میں علمی اور سائنسی تحقیق نے یہ ثابت کردیا ہے کہ انسان کہ اقوال واعمال فضا میں موجود ہیں اور آوازوں کو محفوظ کیا جاسکتا ہے اور اعمال کو اس طور پر ریکارڈ کیا سکتا کہ کہ وہ ہمیشہ باقی رہیں ،چاہے ان کے وقوع کو کتنا ہی عرصہ کیوں نہ گزر چکا ہو۔

اسی طرح علمی تفسیر کا ایک فائدہ یہ ہے کہ جب انسان اشیا کی خاصیتوں اور علم کائنات کی مخلوقات  کے بارے میں بیان کردہ نوع نہ نوع اقسام  کی تفسیر  اللہ پاک کے کلام میں پاتا ہے تو اس کا دل اللہ تبارک وتعالیٰ کی عظمت و شان قدرت سے بھر جاتا ہے اور  اس کے ساتھ ساتھ قرآن پاک کے اعجاز علمی،فصاحت وبلاغت اور حقائق ومعارف پر اس کا ایمان مزید بڑھ جاتا ہے اور یہ یقین اس کے دل میں راسخ ہوجاتا ہے کہ سعادت وسرخوشی کے جتنے رنگوں کی انسانوں کی ضرورت ہے،وہ کتاب حکیم میں موجود ہیں ۔

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment