Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

خوبصورت عادات

ڈاکٹر عمر عبدالفتاح

ترجمہ ڈاکٹر احمد شبل

معاشرے کے خوبصورت جوانب پر روشنی ڈالنا محبت کی روح کو پروان چڑھاتا ہے اور اس میں اپنے نفس سمیت اللہ اور لوگوں کے ساتھ بھی صلح اور سلامتی ہے ۔ ماہر فقیہ وہ ہوتا ہے جو دلیل کے ساتھ لوگوں کے لیے آسانی تلاش کرے اور یہی فتویٰ کا سب سے بڑا مقصد ہے اور لوگوں کی کثیر تعداد بچپن میں بہت سے نیک کام شریعت کی دلیل کے بغیر کرتے ہیں، اُن کی فطرت نقيه ہوتی ہے، جب وہ حلال اور حرام کو سمجھنے والا ہوتا ہے تو اس کے پاس گمراہ کرنے والے لوگ آتے ہیں اور اُس کی نظروں میں اس عمل خیر کو قبیح کر دیتے ہیں۔ وہ عمل خیر کرنے والے سے دلیل کا مطالبہ کرتے ہیں، اُس کے دل میں شبہات پیدا کرتے ہیں کہ اس عمل کی شریعت میں کوئی اصل نہیں ہے۔ پھر اس شخص کا نفس متذبذب ہوتا ہے اور وہ اس صریح خیر کے عمل کے لیے شریعت میں اُس کے جائز ہونے کا لیے دلیل تلاش کرتا ہے،ایک دفعہ میں مسلمانوں کے ملک میں گیا، میں صبح کے وقت گھر سے نکلا، میں نے ایک شخص کو دیکھا جو بقیہ طعام برتن میں ڈالے ہوئے تھا، اور دیوار کے پار  ڈال رہا تھا، میں نے پوچھا اے بھلے مانس انسان! کیا کر رہے ہو؟ اُس نے کہا : میں یہ پرندوں کو دے رہا ہوں تو میں نے تعجب میں کہا، “کیا آپ پرندوں کو پال رہے ہیں؟”

اس نے کہا: میں پرندوں کو نہیں پالتا یہ وہ پرندے ہیں جو باہر سے آتے ہیں۔

میں نے تعجب میں کہا: آپ مہاجر پرندوں کے لیے خوراک رکھ رہے ہیں؟

اس نے کہا : ایسا کرنا میری بچپن کی عادت ہے اور اس ملک کے اکثر لوگ یہی کام کرتے ہیں،

پھر اس نے میرے کان میں کہا: اے فضیلتہ الشیخ! مجھے بتائیں کہ جو شخص پرندوں کہ لیے اس طرح کھانا رکھتا ہے اس شرط کے اوپر اُس کے لیے کیا حکم ہے؟ کیا یہ مال ضائع کرنے میں آئے گا؟

میں نے اپنا منہ کھولا اور بلند آواز سے پوچھا کہ یہ تم سے کس نے کہا؟ اُس نے انتہائی غمگین ہو کر کہا کہ کل ایک شخص اسے مال کے ضیاع میں شمار کر رہا تھا تو مجھے اس میں حرج محسوس ہوا۔میں نے کہا کہ کب سے لوگوں نے فطرت کے مطابق اچھے کاموں (معروف) میں دلیل کا مطالبہ کرنا شروع کر دیا اور لوگ رحمۃ سے موصوف شخص سے بھی دلیل کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ میں نے اپنے دل میں کہا, اس میں کیا ضرر ہے کہ گھروں کے ارد گرد پائی جانے والی چڑیوں کی چہچہاہٹ سے اپنی آنکھ کھولوں! کیا اس میں لوگوں کو ضرر پہنچتا ہے یا اسے حلال کرنے کے لیے فتویٰ کی ضرورت ہے؟

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment