Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

ازہری ورثہ ماضی اور حاضر کا

ڈاکٹر ابراہیم صلاح ہدہد ازھری

تاریخ اسلامی کے ادارے علم اور معرفت کے سمندر ہیں، ان میں میراث نبوی ﷺ کی تقسیم اور اسی واسطے سے پہلے علمی مجلسیں حرمین شریفین میں ہوتی تھیں، محفوظ مصر میں اس کی ابتداء جامع عتیق (مسجد عمرو بن العاص) سے ہوئی، جس میں علمی حلقے منعقد ہوتے تھے، اسی طرح مسجد ابن طولون اور جامع ازہر کا بھی ایسے جامعات میں ہوتاہے، اور اس وقت کے مطابق یہ علمی محلات کی حیثیت رکھتے تھے،  اور بالاخر ازہر نے دنیاء اسلام میں علمی قیادت کا سہرا لے لیا،  اور اس سے اس کے علمی میدان میں تفسیر حدیث قرآن مجید کی قراءت اور لغات کے علوم  اور علوم عقلی اور علوم طبعی  وغیرہ شامل ہو گئے،  اس طرح اس طرجامعہ ازہر قرء ارض کے علماء کے دلوں کا سکون بن گیا، اور علمی کے لئے رخ کر لیا،  اس طرح جامعہ ازہر نے مسلمانوں کے دلوں میں بڑی منزلت حاصل کر لی جس سے انہوں اپنے بچوں کو اس طرف بھیجنا شروع کر لیا، تا کہ ہو وہاں سے علمی جواہر سے مستفید ہوں، اور اہل علم میں بھی ازہر نے مقام بنا لیا اس لئے وہ وہاں کے اساتذہ کا انتخاب کرتے اور علمی مشائخ اور طلبہ کے ساتھ بیٹھنے لگے۔

تدریس: ازہر شریف میں ابتدا سے علمی حلقوں کا نظام قائم ہے، پہلا حلقہ علمی حلقہ ہوتا تھا  اورکس طرح جس طرح  امام مقریزی فرماتےہیں صفر مہینے میں  ۳۶۵ ہجری ۱۰ اکتوبر ۹۷۵ ء ، ممالیک (۶۴۸ ھ ۔ ۹۲۲ / ۱۲۵۰ ء ۔ ۱۵۱۷ ء)کے دور میں جامعہ ازہر کو  عظیم منزلت ملی، ان تاریخو ں کے مطابق مقریزی جامعہ کے اوصاف بیان کرتے ہیں کہ اس کے ساتھ مسلمانوں کا اس زمین کے ساتھ دلی لگاؤ تھا،  اور وہاں پڑھنے کا لگاؤ تھا انہیں،  مقریزی کہتا ہے کہ: ‘ جب سے یہ جامع ازہر ہے اس کے پڑوس میں لوگوں کے جتھے آنے لگے، ایسے لوگ جو عجمی تھے  اور مغربی اور زیلعی (مشرقی افریقہ کے ساحل سےعدن کی طرف سے)، اور دیہاتوں سے بھی لوگ قاہرہ کی طرف آنے لگے جن کو علمی شوق تھا، اور اپنوں کے لئے نگار خانے بنا تے تھے،  اور قرآن کریم کی تلاوہ اور اس کے علم اور اس کی طرف رجحان اور مختلف قسم کے علوم جیسے فقہ نحو اور سماع حدیث اور نصیحت آمیز مجالس سے نہیں ہٹتے تھے، ہر بندے داخل ہونے پر راحت اور سکون اللہ کریم کے لئے پاتا تھا، ان کے نفس کو وہ راحت ملتی تھی جو کہیں سے نہیں ملتی تھی’۔

تدریسی حلقے اتنے چھا گئے کہ ازہر پوری دنیا سے آنے والے علماء کا مرکز بن گیا، مقریزی کہتے ہیں کہ شوال ۷۸۴ ھجری کے مہینے میں ایک اہم واقعہ ہوا، کہتے ہیں کہ اس مہینے میں ہمارے شیخ ابو زید عبد الرحمن بن خلدون مغرب سے تشریف لائے۔۔۔ اور ان کی مشغولیت جامع ازہر میں بڑھ گئی اور لوگ ان کی طرف آنے لگ گئے اور غور سے ان کی باتیں سننے لگے اور ان پر حیرت کرنے لگے۔

لمبے عرصے تک حلقات کا سلسلہ جاری رہا یہاں تک کہ مقرر وقت کا نظام ربیع الآخر ۱۳۲۶ ہجری/ مئی ۱۹۰۸ ء میں شروع ہوا،  جس میں ازہراور مدارس اسلامیہ جو ملے ہوئے  تھے ان کی تنظیم سازی کے قانون کا  ۱۳۲۹ ہجری / ۱۹۱۱ ء میں اجراء کیا گیا،  جو کہ دور خدیوی عباس حلمی الثانی (۱۸۹۲ ۔ ۱۹۱۴ ء)اور  مشیخیۃ کا دوسرا دور سلیم البشری (۱۹۰۹ ۔ ۱۹۱۶ ء) میں بنا تھا،  اس قانون کے مطابق تعلمی مراحل تقسیم ہوگئے اور نظام اور مواد کے ساتھ ساتھ، اور دراسی علوم کے مواد میں اضافہ کرتے ہوئے علوم جدید اور حاضرہ جیسے تاریخ، جغرافیہ ریاضی علوم طبعی اور کیمیا وغیرہ کو شامل کیا گیا، اور ازہر کی مجلس اعلیٰ بنائی گئی جو ازہر کے معاملات کی سرپرستی کرے جامعہ کے سرپرست کے ماتحت،  جس طرح بڑے علماء کو خاص نظام کے مطابق حیثیت دی گئی، ان پیراگراف اور مواد کا اعتبار کیا جاتا  تھا جن کی منظوری کی ضامنت اس قانون نے علامتوں کے ساتھ دی تھی جس کا مطلب تھا کہ ازہر کا تعلیمی بورڈ اس کی داخلی چیزوں سے آگاہ ہے، اس بورڈ کی کوشش آج تک مشکلات کے سامنے کے باوجود نہیں رکیں۔

تدریس اور خصوصیات اور طلباء کو سمجھانے والے رہنما کا انتخاب: ازہر کے بڑے  بڑے علماء تدریس کے لئے بیٹھنے کے شرف سے مطلع تھے ، مؤرخین بتاتے ہیں کہ ازہر اور دوسرے مدارس میں جو تدریس کے مناصب تھے وہ قاضی کے منصب کی طرح معیاری تھے، اور استاد کو خاص تنخواہ پر مقرر کیا جاتا تھا، اور اسے طلباء کی بھلائی کے متعلق ہدایات دی جاتی تھیں، اور انہیں سب ادائیگی جامع ازہر یا خاص ادارے سے احترام کے ساتھ کی جاتی تھی،

استاد اور طلباء کا بیٹھنا: استاد زمین پر چارزانوں قبلہ رخ ہو کر بیٹھتا تھا، اور طلبہ اس کے ار گرد حلقے کی صورت میں بیٹھتے تھے، اور جب ان کی تعداد زیادہ ہوتی تھی تو استاد لکڑی کی کرسی پر یا دوسری کرسی پر بیٹھتے تھے تا کہ تمام طلباء سنیں،  مسجد میں ہر شیخ کا ایک ستوں تھا جسے وہ نہیں بدلتا تھا، اور ہر طالب کی ایک جگہ جسے وہ نہیں بدلتا تھا،  اور شیخ اس عبارت سے اپنے درس کی ابتدا کرتا تھا:   بسم الله الرحمن الرحيم، والصلاة على رسول الله عليه السلام،پھر پڑھانا شروع کرتے تھے، اور طلباء اس کی طرف متوجہ ہوتے تھے، پھر وہ استاد سے سوال کرے یا کچھ پوچھتے تھے تو شیخ صاحب جواب دیتے تھے،  اس میں بھی کوئی شبہ نہیں ہوتا تھا کہ اس باوضو  شیخ کے گرد ہوتے تھے، اس سب کی وجہ سے طلبہ اور اساتذہ میں الفت ہوتی تھی،  اور قلقشندی اپنی باتوں میں رہنما اور مفسر کا بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ:  وہ ان کے سامنےکرسی پر  بیٹھ کے باتیں ایسے کرتا جیسے وہ ان پر پڑھ رہا ہے،   کھل کے وضاحت کرتا نرمی اور نصیحت آموز انداز میں، جب بول لیتا تو خاموش ہوجاتا، بڑا اپنی باتوں میں وہ بات کرتا جو آیت کی تفسیر کے معنی کے متعلق ہو، اور کبھی متکلم سے کرسی پر ایک منفرد بات صادر ہوجاتی۔

معاونین کا نظام: تاریخ کی کتب بتاتی ہیں کہ معاونین کے نظام پر عمل جامع ازہر میں دور قدیم سے ہے، اس کا کام ہوتا تھا کہ استاد جو طلباء کو دے اسکا خلاصہ طلباء کو کلاس کے آکر تک دے ، اور یہ خلاصہ کبھی معاون کی موجودگی میں ختم ہو جاتا ہے، یہ وہ چیز ہے جسے دوسرے اداروں نے بھی دور حاضر میں اپنا لیا ہے جبکہ یہ صدیوں سے ازہری میراث کا طریقہ ہے،  یہ رہنمائی  کا طریقہ ساری انسانیت کے لئے ہے، باقی باتیں بعد میں ان شاء اللہ تعالٰی۔

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment