Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

ازہر شریف فکری اور تہذیبی

ڈاکٹر محمد عبد الظاہر محمد ازھری

ازہر شریف نے ہزار سالوں سے اپنے کندہوں پر دعوت اور اسلام کی تعلیم کو دنیا کے کونے کونے مشرق اور مغرب پھیلانے کی ذمہ داری رکھی ہوئی ہے، اللہ تعالیٰ کے اس قول کو اپنے اندر موجزن کرتے ہوئے:

” اور یہ تو ہو نہیں سکتا کہ سارے کے سارے مسلمان (ایک ساتھ) نکل کھڑے ہوں، تو ان میں سے ہر ایک گروہ (یا قبیلہ) کی ایک جماعت کیوں نہ نکلے کہ وہ لوگ دین میں تفقہ (یعنی خوب فہم و بصیرت) حاصل کریں اور وہ اپنی قوم کو ڈرائیں جب وہ ان کی طرف پلٹ کر آئیں تاکہ وہ (گناہوں اور نافرمانی کی زندگی سے) بچیںo” سورۃ التوبۃ

ازہر کرنوں  کا مینار ہ رہا  دنیا پر اندھیروں کو ختم کرنے کا ، علم کا ایسا مرکز کہ جو دنیا کے شدید جہالت اور اندھیر نگری اور علم کی ضرورت میں ابھرتا رہا۔

۴ ہجری صدی سے آج تک ثقافۃ اسلامی کی تاریخ کا مرکز ہے،  جب مصر نے اسے ایک مقام دیا جو دنیا کے نقشے میں امتیازی حیثیت کا حامل ہے تو تمام براعظموں کو ملانے کا مرکز بن گیا، ثقافتی اور تہذیبوں کی کرنوں کو تمام عالم میں بھیجا گیا شرقا غربا۔

ازہر اس مکان پر سنہرا دور فکر اسلامی کے اعلیٰ اثرات اور فکر انسانی  کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا رہا، اپنے داعیوں اور افکا ر کو ہر کونے میں علم اور معرفت کو پھیلانے کے لئے بھیجا، اللہ پاک کے قول کے مطابق: ‘اور نہ یہ کہ وہ (مجاہدین) تھوڑا خرچہ کرتے ہیں اور نہ بڑا اور نہ (ہی) کسی میدان کو (راہِ خدا میں) طے کرتے ہیں مگر ان کے لئے (یہ سب صرف و سفر) لکھ دیا جاتا ہے تاکہ اللہ انہیں (ہر اس عمل کی) بہتر جزا دے’ ۔

الازہر صرف ایک عمارت اور دیواروں کا نام  نہیں بلکہ اسلامی کمیونٹی کا ایک اہم حصہ تھا،  یہ ایک شاندار ورثہ ہے اس کے ذریعے زمین کے مشرق اور مغرب کے ہر مسلمان کو تیار کرتا ہے، یہ علم اور معرفت کے میدان میں جنگی چاک وچوبند گھوڑا ہے، اور اجتماعی اور اخلاقی اصلاح کرتا ہے،  اور عربی اور اسلامی  دنیا کو سیاست کا انداز سکھاتا ہے، اللہ پاک کے اس کوقول سامنے رکھتے ہوئے کہ: ‘اور انہیں یقین ہوگیا کہ اﷲ (کے عذاب) سے پناہ کا کوئی ٹھکانا نہیں بجز اس کی طرف (رجوع کے)، تب اﷲ ان پر لطف وکرم سے مائل ہوا تاکہ وہ (بھی) توبہ و رجوع پر قائم رہیں،’ الازہر کا سیاسی کردار بالکل پوشیدہ نہیں ہےصلیبیوں اور تاتاروں کے صلیبیوں اور جارحیت پسندوں کے ظلموں اور نوآبادیوں کی جارحیت سے اسلامی دنیا کو تباہ کرنے سے محفوظ کیا گیا ہے۔

الازہر ہے اور رہے گا اور اپنا پیغام اعلٰی انداز میں بڑھائے گااور عالم اسلامی کے لئے خدمات ہر زمانے میں ادا کرتا رہے گا، اور ساری دنیا میں علم و معرفت کی روشنی پھیلتی رہے گی، اور مختلف قوموں کے طلباءکے عربی اور ثقافات کے علوم کے مقاصد باقی ہیں۔

جنہوں نے الازہر کی تاریخ کو پرکھا ہے ان کے معلوم ہے کہ

الازہر کی تاریخ کی پیروی کرنے والوں کو یہ معلوم ہے ازہر کے علماء نے تمام معارف اور علوم میں تحقیق اور تحریر میں دینی اور لغوی  صورت میں حصہ لیا اور اس کے ساتھ ساتھ علوم عصری میں سے منطق، ریاضی، ہندسہ اور جبر اور فلکیات وغیرہ میں بھی حصہ لیا،  جب سے دور حاضر میں علمی قیام آیا ہے علمی چشمہ ازہر ہی میں پایا جاتا ہے۔

مصر سے یورپ کے سفراء میں ازہر کے لوگ تھے سب سے پہلی مثال رفاعۃ الطہطاوی  جنہوں نے سفارت کے عہد کے  دوران فرانس کا سفر کیا  تو ان کے ساتھ ۴۰ کےقریب طلباء تھے ان کو جدید علم پڑھنے کے لئے محمد علی نے بھیجا۔ مختلف علوم اور فنون میں تخصص کے بعد جب لوٹے تو  انہوں نے ان علوم اور فنون کی بنیاد رکھی۔

دنیا کے کونے کونے میں موجود داعی الازہر کے بیٹے ہیں، جو معلم اور ثقافتی رنگ میں دعوت پہنچاتے ہیں اور اسلام کو میانہ روی کی فکر کے ساتھ پھیلا رہے ہیں الازہر دنیا کو تعلیمی اور مذہبی اداروں کے لئے مہذب ماڈل پیش کرتا ہے جو ان کے نوجوانوں کی علمی تربیت کرے۔ اللہ تعالیٰ مصر اور اسکے ازہر شریف کی حفاظت فرمائے۔

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment