Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

ظاہری طور پر دینی شکل بنانا

ڈاکٹر عمر عبد الفتاح

ترجمہ ڈاکٹر احمد شبل

اس حوالے سے جو مشکل ہے اسلام کی نظر میں اس کا علاج ظاہری طور پر اپنی شکل دینی بنانا یا اپنے آپ کو دین دار پیش کرنا یہ پہلے بھی تھا اور ابھی تک ان اسباب میں سے ہے جس کی وجہ سے مسلمان بہت سارے اسلامی عربی ممالک میں دین سے پیچھے ہو گئے ہیں اور تدین شکلی سے کیا مراد ہے؟ تدین شکلی سے مراد یہ ہے کہ اسلام نے جو بعض زینت کی چیزیں اختیار کرنے کا حکم دیا ہے اس کو پکڑ لینا اور فرائض و واجبات کو چھوڑ دینا ظاہری معاملہ کے اوپر تھوڑا رکنا چاہیے کیونکہ بعض لوگ بعض مظاہر اسلامیہ کو ظاہر کر کے اپنے نفس کو مطمئن کرنے کا سوچتے ہیں لیکن ان کے اعمال بہت زیادہ مواخذہ والے ہوتے ہیں

کسی بڑے عالم سے پوچھا گیا کہ بعض لوگ رمضان بیس اور آٹھ تراویح کی وجہ سے لڑتے ہیں تو اس نے کہا کہ بہتر یہ ہے کہ تم تراویح ہی نہ پڑھو تاکہ بعض سنن کی وجہ سے مسلمانوں میں قتال نہ ہو اور وحدت المسلمین کا واجب نہ چھوٹ جائے

ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمان کی عبادت کا اثر اس کے سلوک پر نہیں ہے نہ ہی اس کی خاص و عام زندگی پر عبادت کا کوئی اثر ہے حالانکہ وہی شخص صف اول میں نماز پڑھتا ہے آنکھوں سے آنسو بھی بہتے ہیں نوافل بھی ادا کرتا ہے لیکن بازار میں جا کر جھوٹ بولتا ہے چیزوں میں ملاوٹ کرتا ہے ناپ تول میں کمی کرتا ہے والدین کے ساتھ عقوق کرتا ہے اور لوگوں کے حقوق کھا جاتا ہے اور اپنے بھائیوں کو اپنے گھر والوں کو ہمسایوں کو تکلیف دیتا ہے

بعض شعائر کی تعظیم کرنا اور ان کے احکام و اہداف کو معطل کرنا ایک بڑا المیہ ہے ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمان مسجدیں بنا رہے ہیں لیکن ایک مسلمان بنانا نہیں آتا قرآن وقف کرتے ہیں لیکن قرآن کے احکامات کے ساتھ جنگ کر رہے ہیں اور اس کی حدود کو چھوڑا ہوا ہے

ابن قیم فرماتے ہیں تمہیں ایک شخص ملے گا جو کہتا ہے کہ میں ایک قطرہ شراب نہیں پیوں گا یا ریشم کے تکیے کے ساتھ ٹیک نہیں لگاؤں گا لیکن اس کی زبان لوگوں کے اعراض میں چغلی کے لیے اور غیبت کے لیے چلتی ہے

ابن جوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک انسان کو کوڑے بھی مارو تو وہ رمضان میں روزہ کو افطار نہیں کرے گا لیکن لوگوں کا مال و اعراض کھا جائے گا

اے میرے بھائی ظاہر و باطن دونوں لازم و ملزوم ہیں دونوں کا صحیح ہونا لازمی ہے کہ جب یہ دونوں صحیح ہوں گے تو اعمال صحیح ہوں گے

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment