Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

علامہ الشیخ حسنین محمد مخلوف

بقلم: دکتور / عبدالمحسن جمعہ مجاور ازھری

علامہ محمد حسنین مخلوف العدوی کی ولادت بروز ہفتہ 16 رمضان 1307ھ مطابق 6 مئی سن 1890ء میں باب الفتوح محلہ قاہرہ میں ہوئی۔ آپ کی پرورش اپنے والد کے زیر سایہ ہوئی، جو اس وقت جامع ازہر کے مدیر تھے۔ آپ نے جامع ازہر کے صحن میں قرآن پاک حفظ کرلیا اس وقت آپ دس سال کی عمر کو پہنچے تھے۔ پھر گیارہ سال کی عمر میں جامعہ ازہر سے باضابطہ طالب علم کی حیثیت سے منسلک ہوئے۔ جہاں آپ نے ازہر کے بڑے علماء سے استفادہ کیا۔پھر آپ نے مدرسہ القضاء سے سن 1332ھ یون سن 1914ء میں صرف چوبیس سال کی عمر میں ماسٹرز ڈگری حاصل کی۔

تکمیل تعلیم کے بعد آپ نے ازہر میں دو سال تک بحیثیت استاذ اپنی خدمات سرانجام دیں، بعد ازں آپ شرعی عدالت کے جج مقرر ہوئے، پھر آپ کو ملک مصر کے منصبِ افتاء کی ذمہ داریاں سونپی گئیں جو 26 صفر سن 1365ھ مطابق 20 جنوری سن 1946ء سے شروع ہوا۔  اس دوران سن 1367ھ/ 1948ء کو آپ ممبر مجلس کبار علماء ازہر  بنےمقرر کئے گئے۔

جب آپ کی قانونی خدماتِ  ختم ہوئیں تو آپ چین وسکون سے بیٹھنے کی بجائے مشہد حسینی میں روزانہ درس دیا کرتے تھے۔ اور ساتھ ہی اہم علمی فتاوی جات اور مقالات لکھتے رہے یہاں تک کہ دوبار 1271ھ / 26 فیبروری، سن 1952ء میں جج کے عہدے پر فائز ہوئے۔ اس دوران آپ نے 8588 فتاوی شائع کیں۔

اس کے بعد آپ نے طویل مدت تک جامعہ ازہر الشریف کی فتوی کمیٹی کی سربراہی کی۔ اسی طرح آپ مجمع البحوث الاسلامیہ ازہر کے رکن بھی منتخب ہوئے۔ آپ نے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کی تاسیس میں شریک رہے ۔ اور مجلس القضاء الاعلیٰ سعودیہ کے رکن رہے۔

شیخ حسنین مخلوفؒ  ایک سچے مفتی ہونے کی وجہ سے مصری لوگ در پیش مشکلات (احکام جاننے کے لئے)آپ کی طرف رجوع کرتے تھے۔  آپ کی پہلی فتوی اس وقت کی ہے جب آپ مدرسۃ القضاء الشرعی میں طالب علم تھے۔ جس میں سوال کرنے والے نے اسلام میں حیوانوں کے ساتھ نرمی برتنے کے متعلق پوچھا تھا۔ اور کہا تھا کہ جواب مصادرِ شرعیہ کی طرف رجوع کرنے کے بعد تحریر کیا جائے۔ پس شیخ حسنین نے طالب ہونے کے باوجود دو ہفتے مسلسل محنت کی اور نتیجتا ایک مکمل کتابچہ تحریر کر ڈالا، جس پر آپ کے والد نے بڑی خوشی کا اظہار کیا اور اپنے دانا بیٹے کی اس محنت کو بخوشی طباعت سے آراستہ کیا۔

شیخ حسنین مخلوفؒ علم وحق بات کرنے کی وجہ سے بڑی عزت واحترام کی نظر سے دیکھے جاتے تھے۔ اور حکومتی اور سفارتی حلقوں میں آپ کو دعوت قضا اور فتوی  میں کی گئی جلیل القدر خدمات کی بدولت قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ آپ کو اعزازا دو مرتبہ ۔۔۔۔کسوة التشريفية العلمیة۔۔۔ اور علم وفن طبقہ اولی کے اعزاز سے نوازا گیا، آپ کی عزت تکریم  بین الاقوامی سطح پر بھی ہوئی۔ جہاں آپ کو خدمت اسلام کے پیش نظر سن 1403ھ/ 1983ء میں شاہ فیصل بین الاقوامی ایوارڈ  سے نوازا گیا۔

آپ نے طویل عمر پائی، یہاں تک کہ مصر اور بیرونِ مصر سو سال کا عرصہ اسلام کی خدمت کی، اور خدمت کرتے ہوئے آپ 19 رمضان 1410ھ، مطبق 15 اپریل 1990ء کو اپنے رب سے جا ملے۔

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment