Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

علامہ محمد عبد الرحمٰن بیصار​

بقلم: دکتور/ محمدی عبدالبصیر حضیری کلیۃ أصول الدین

آپ کی ولادت سالمیہ شہر میں، مرکز فوۃ، محلہ کفر الشیخ میں سن 1228ھ، میں 20 آکتوبر سن 1910ء میں ہوئی۔ آپ نے حفظ قرآن اور تجوید کے بعد مدرسہ دسوق الدینی سے حصول علم کیا، جہاں سے فراغت کے بعد آپ کے والد نے آپ کو طنطا کی درسگاہ میں داخل کیا۔ وہاں سے آپ نے ثانوی جماعت تک تعلیم مکمل کی۔ آپ کو تالیف وتصنیف سے بہت شغف تھا، اس زمانے میں آپ نے “بؤس الیتامی” نامی کہانی تحریر کی، جہاں آپ کے اساتذہ نے آپ کے تحریر سے منسلک ہونے پر تحفظات کا اظہار کیا، جو کہ در اساتذہ کی نظر میں علم کی راہ میں رکاوٹ تھا۔ جس کا نتیجا یہ نکلا کہ آپ نے معہد طنطا کو الوداع کیا ور اسکندریہ جاکر دوسرے معہد سے منسلک ہوئے، جہاں کے اساتذہ نے کھلے ذہن کے ساتھ آپ کے تحریری اور فکری ذوق کو پروان چڑھایا، اسکندریہ سے آپ نے اسلامی فلسفے میں خصص حاصل کیا، اور اسلامی فلسفے کی جزئیات کا بڑی گہرائی سے مطالعہ کیا۔ اور آپ نے اپنی تحقیقی کا محور “فلاسفہ، علماء علم کلام اور صوفیا کے درمیان اختلاف کے اسباب” کو بنایا۔ آپ نے اپنی اس تحقیق کو کتب اور محاضرات کی صورت میں شایع کیا، یہ تحقیق بہت ہی اہم نتائج پر منتج ہوئی۔ اس مرکزی عنوان سے منسلک ایک تحقیقی مقالہ پیش و آپ نے “مجمع البحوث الاسلامیہ” کے زیر نگرانی پانچویں اسلامی کانفرنس، منعقدہ 28 فروری، 1970ء میں پیش کیا۔ جس کا عنوان “اثبات العقائد الاسلامیہ” تھا۔ یہ تحیقیق تین مناہج کی بیان پر محیط تھی۔ جن میں پہلا منہجِ متکلمین؛ جو نص پر اعتماد کرتے ہیں، ساتھ عقل کو بھی اپنا جائز مقام دیتے ہیں۔ دوسرا منہجِ فلاسفہ: یہ ابتداءً عقل پر اعتماد کرتے ہیں ساتھ نصوص پر ایمانِ بھی رکھتے ہیں۔ تیسرا منہجِ صوفیہ:  یہ لوگ ریاضتِ روحانی، اور مجاہدۂ نفسیہ پر اعتمد رکھتے ہیں۔

آپ نے اپنے تحقیقی نتائج کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام نے عقیدہ میں جو عقلی آزادی اپنے پیروکاروں کو دے رکھی وہ اصولی قوانین کے تحت ہے۔ جن کی تفصیل یہ ہے کہ: قران پاک نے انسان کو زمین وآسمان اور کائنات میں سوچ وفکر اور تدبر وتفکر کی ترغیب دی ہے۔ اسی طرح اسلام نے فضائل علم اور معرف کو تاکید کے ساتھ بیان کیا ہے، اور علماء کرام کو بہت بڑی منزل عطا کی ہے۔ اور اسلام پر اعتراض کرنے والوں کو عقلی ومنطقی جواب بھی دیئے گئے ہیں جو عقل وفکر کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔

آپ کی خصوصیت ہے کہ آپ نے مشکل ترین مباحثِ فلسفہ کو آسان اور سہل انداز میں بیان کیا، کہ بآسانی عام قاری بھی بآسانی سمجھ سکے۔ آپ نے اسلامی تحقیقی ورثے میں کئی کتب کا اضافہ کیا۔

جنوری 1398ھ/ 1979ء کے آخری دنوں میں علامہ محمد عبدالرحمٰن بیصار کو علامہ الشیخ عبد الحلیلم محمود کے وفات کے بعد شیخ الازھر کے عہدے پر تعینات کیا گا۔ آپ نے قانون کی تدریس سے آپنی ذمیواریوں کی ابتدا کی۔

شیخ بیصار کا شیخ الازہر کا عرصہ ازہر شریف کے مشکل ترین ادوار میں سے ایک تھا۔ کیونکہ اس عرصے میں حکمرانوں خاص طور پر انور سادات کے سیاسی مخالفین سے سیاسی امور پر اختلاف حد سے تجاوز کر چکے تھے۔  اس وقت شیخ عبد الرحمٰن بیصار نے فیصلہ کیا کہ حاکم کے ساتھ اصولی معاملات کے علاوہ دوسرے امور میں مخالفت نہ کی جائے۔  اور علمائے ازہر کو بھی قائل کیا کہ حکومت کے ساتھ کسی قسم کا تصادم نہ کیا جائے۔ اسی حکمت سے آپ نے اپنے معاشرے کو مغربی شدت پسندی اور ثقافتی اثرات سے محفوظ رکھنے کی طرف توجہ دلائی۔

اسی طرح اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی دعوت دی، جس میں شدت پسندوں کے ساتھ بات چیت، اور دعوت میں مصروف عمل علماء پر سختیاں ختم کرنے کی طرف توجہ دلائی۔ 

محمد انور سادات نے جب اسرائیل کے ساتھ کامپ ڈیوڈ معاہدہ کیا، تو اس وقت شیخ بیصار نے ایک دینی مجمعہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ دن مصر کی تاریخ کے بہترین دن ہے کہ صدر مصر نے امن کا معاہدہ کیا ہے۔ آپ نے صدر انور سادات کو اس معاہدہ پر مبارک بادی مراسلہ بھی تحریر کیا تھا۔

آپ کو علماء کرام اور مفکرین بہت عزت سے دیکھتے ہیں، اور آپ کے ہم عصر علماء نے آپ کی تعریف لکھی ہے اور بہت اکرام دیا۔

آپ کی اسلام اور علم کی خدمت میں جہد مسلسل اور کامیابیوں کا شمار ناممکن ہے۔ آپ نے 28 مارچ 1982ء کو آپ نے ندائے رب پر لبیک کہا اور دار الفنا سے کوچ کیا۔

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment