Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

مسجد احمد ابن طولون

ڈاکٹر عبدالرحمن حماد الازہری

مسجد احمد ابن طولون، یا مسجد ولونی، یہ تیسری جامعہ مسجد ہے جو مصر میں تعمیر ہوئیں۔ یہ قدیم ترین مسجدوں میں سے ایک ہے جن کے نقوش اور تعمیرات سے متعلق کئی چیزیں اصلی شکل وصورت میں موجود ہیں۔ ان میں سے اس مسجد کا قدیم ترین اذان دینے کے لئے بنایا گیا مینار بھی ہے، جس کی تعمیر پر 120 ہزار  دینار کے اخراجات آئے تھے۔

قطائع شہر کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد احمد بن طولون نے جبلِ شکر پر جامعہ مسجد کی بنیاد رکھی جو 263ھ میں شروع ہوئی اور 265ھ میں پایہ تکمیل کو پہنچی۔ یہ تاریخِ مسجد میں قبلہ کی جانب نصب ایک ماربل کے پتھر پر نقش ہیں۔

مسجد احمد ن طولون تیسری جامع مسجد ہے جو مصر میں تعمیر ہوئیں۔ جامع مسجد عمر بن العاص، جامع مسجد العسکر جو شہرِ عسکر کے غیر آباد ہوجانے کی وجہ سے ختم ہوچکی ہے، جو  محلہ زین العابدین محلہ جسے آج کل “مدبح ” کہا جاتا ہے۔ مسجد طولون تیسری قدیم ترین مسجد ہے جو اپنی اصل حالت میں محفوظ ہے۔

مسجد پر طرز سامراء غالب ہے، جس طرح اس کے ٹیڑھی سیڑھیوں والے مینار کے طرز تعمیر سے ظاہر ہے۔ سلطان لاجین نے اس میں بعض تبدیلیاں کی، جس کے لئے اس نے کئی ماہر کاریگروں کی خدمات لیں۔ اسی طرح ایک گھڑیال کی تنصیب کی، جس کے لیا قبہ میں قوس تعمیر کرائے، چھوٹا قوس رات دن فتحة۔۔۔۔جب ایک گھنٹہ گزرتا تو اس وقت کی گھڑی بند ہوجاتی، اور اس طرح وقت بتاتا رہتا۔

جامع احمد بن طولون مصر کی قدیم مساجد میں سے وہ واحد مسجد ہے جس میں مرورِ زمانہ سے کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔

یہ مسجد چہ ایکڑ کے وسیع وعریض علاقہ پر مبنی ہے، جبکہ آدھا ایکڑ علاقہ جبل یشکر پر موجود ہے، جو قطاع شہر کے وسط میں موجود ہے۔

آج کل یہ مسجد میدان احمد بن طولون کے علاقہ میں سیدہ زینب محلہ میں موجود ہے، جو جنوبی قاہرہ میں واقع ہے۔

جب لوگوں نے مسجد عسکر میں جگہ کم ہونے کی شکایت کی تھی تو احمد بن طولون نے یہ مسجدتعمیر کی تھی۔ اس کی تعمیر 263ھ مطابق 876ء میں شروع ہوئی اور 265ھ مطابق 879ء میں مکمل ہوئی۔

یہ مسجد اسلام کی ابتدائی ادوار کی تعمی ہونے کی وجہ سے ممتاز حیثیت کی حامل ہے جو اسے نادر اسلامی فنِ تعمیر کا شاہکار نمونہ ہے۔

ایوبیوں کے زمانے میں اس مسجد میں چاروں فقہی مذاہب کی تعلیم دی جاتی تھی۔ اسی طرح حدیث اور طب کی تعلیم بھی دی جاتی تھی۔ جس کی ساتھ یتیم ومسکین بچوں کی تعلیم کا بھی اہتمام کیا جاتا تھا۔

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment