Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

دینی انداز خطابت میں نیا انداز اپنانا ایک شرعی حاجت ہے

ڈاکٹر محمد عبد الظاھر محمد ازھری أستاذ الحدیث الشریف وعلومہ

اسلامی طرز خطابت کی دو قسمیں ہیں :

پہلی قسم : صاحب شریعت ( اللہ یا اسکے رسول ) کے الفاظ ان لوگوں کے لئے جو مکلف ہیں ، اور یہ انداز ان  احکام اور شرعی قواعد میں نظر آتا ہے جن کو لیکر قرآن کریم اور صحیح احادیث آئے ہیں ، تاکہ بندوں کے تعلق کو ان کے خالق کیساتھ جوڑ دے اور ان کے آپس کے تعلقات کو منظم کر دے ، اور یہ طرز کلام ہر زمانے کے لئے اور ہر جگہ کے لئے کار آمد ہے ۔

دوسری قسم : مبلغ اور داعی کا انداز تخاطب ہے ، اور یہ انداز نظر آتا ہے علماء اسلام کی گفتگو میں جب وہ اللہ اور اس کے رسول کی شریعت کے مفہوم کو  لوگوں تک پہنچانے کے لئے مختلف اسلوب اور انداز بیان کے طریقوں کا استعمال کرتے ہیں ،

پس جب ہم کہتے ہیں ( مذہبی انداز خطابت کی تجدید ) ، تو اس بات سے ہم دوسری قسم مراد لیتے ہیں اور وہ ہے اسلام کے داعی کا وہ طریقہ جو ان کے انداز بیان اور بات کے اسلوب میں نظر آتا ہے ، اور بلا شبہ یہ امر ضروری ہوگیا ہے تاکہ ان کا انداز خطابت زمانے کی جدت اور مخاطب کے حالات سے ہم آہنگ ہو سکے

سورہ یوسف میں ارشاد ربانی ہے :

ترجمہ : ( کہہ دو میرا رستہ تو یہ ہے – میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں سمجھ بوجھ کر- میں بھی اور میرے پیروکار بھی ۔ اور اللہ پاک ہے ۔ اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں ) سورہ یوسف ، آیت : 108

پس لفظ بصیرت کا مطلب یہاں علم و عرفان ، شرعی اور عقلی دلیل سے آگاہی رکھنا ہے ۔

وہ بصیرت جو دین کی دعوت دینے والوں کو اس بات کے قابل بناسکے کہ وہ اپنے سامعین کے حالات کا صحیح ادراک کر سکیں اور حلال و حرام کے احکام ان تک پہچانے کے لئے وہ مناسب طریقہء تبلیغ استعمال کر سکیں جو ان مخاطبین کے افہام و عقول اور حالات کے مطابق ہوں ، تو جو انداز خطابت کسی ایک شخص کے لئے مناسب اور مفید ہوگا ، ضروری نہیں ہے کہ وہ کسی دوسرے شخص کے لئے بھی ویسے ہی کار آمد ہو ،

پس نبی کریم ﷺ کے پاس لوگ مختلف سوال پوچھنے کے لئے آیا کرتے تھے تو آپ ﷺ ہر ایک کو اس کے حال کی مناسبت سے جواب مرحمت فرمایا کرتے تھے

امام بخاری رحمہ اللہ نے صحیح بخاری میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے کہا : مجھے نصیحت فرمائیے ، آپ ﷺ نے فرمایا : غصہ نہیں کیا کرو ۔

پھر دوسرے شخص نے آ کر یہی سوال کیا مگر اس کو مختلف جواب دیا گیا ۔

اسی طرح کتاب (آحاد و مثانی) میں ابن ابی عاصم حضرت جرموز ہجیمی رضی اللہ عنہ سے حدیث روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ﷺ ! مجھے کچھ نصیحت کیجیے ، آپ ﷺ نے فرمایا : لعنت دینے والے مت بنو ۔

پھر یہی سوال لیکر تیسرے شخص آئے تو آپ ﷺ نے اس سائل کو پہلے اور دوسرے سوال کرنے والوں سے الگ جواب عطا فرمایا ۔

اسی طرح کتاب (آحاد و مثانی) میں ابن ابی عاصم نے حضرت حرملہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا : میں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے ان کے ہمراہ ظہر کی نماز ادا کی ، جب آپ ﷺ نے نماز مکمل کر لی

تو میں نے لوگوں کے چہروں پر نظر ڈالی ، میں ان لوگوں کو نہیں جانتا تھا ، پھر میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ﷺ ! مجھے کچھ نصیحت کیجیے ، آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ سے ڈرتے رہو اور جب تم ایسے لوگوں کے درمیان میں ہو جن سے تم اپنے لئے ناگوار باتیں سنو تو ان کو چھوڑ دو ۔

پھر یہی سوال لیکر دوسرا شخص آیا ، آپ ﷺ نے اس کو بھی مختلف جواب دیا ۔ابن ابی عاصم رحمہ اللہ ( کتاب السنۃ ) میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہیں ، انہوں نے فرمایا : نبی کریم ﷺ کے پاس ایک شخص آیا اور عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ ! مجھے کچھ نصیحت کیجیے ، آپ ﷺ نے فرمایا :

اللہ تعالی کی عبادت کرو اور اسکے ساتھ کسی کو شریک نہیں بناؤ ، نماز قائم کرو اور زکاۃ ادا کرو اور ماہ رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج اور عمرہ کرو اور سنکر اطاعت کیا کرو اور تمہیں چاہئیے کہ اپنے کام علی الاعلان کیا کرو اور چھپ کر کرنے والے کاموں سے دور رہا کرو ۔

پس یہاں سوال ایک ہی ہے مگر ہر سائل کے لئے دوسرے سائل سے الگ جواب دیا گیا ہے ، خطابت کے طریقے میں نیا انداز اختیار کرنے سے یہی مقصد مطلوب ہے ، تاکہ سامعین کے حالات کی اور خطابت کے زمانے کی صحیح رعایت ممکن ہو جائے ، پس نیا انداز خطابت اپنانا ایک لازمی اصلاحی عمل ہے ، جو ہمیں سیدھے اور کشادہ دین اسلام کے صاف ستھرے اصولوں اور بنیادوں کی طرف لوٹا دے گا ۔

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment