Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

آپ کی کیا رائے ہے ان لوگوں کے بارے میں جو شریعت اسلامیہ کے حق مہر میں آسانی دینے اور عورتوں کے حق مہر میں غلو کے تعارض کو نہیں سمجھتے ؟

د۔ اسامہ ابراہیم شربینی

میں کہتا ہوں: مسلمان عورتوں کا اپنے حق مہر میں غلو و زیادتی کرنا پورے معاشرے پر بوجھ ہے اس کی وجہ سے بعض نوجوان شادی کرنے سے رکے ہوئے ہیں اور بہت سی خواتین گھروں میں بوڑھی ہو رہی ہیں یہ لوگ استدلال کرتے ہیں کہ کچھ صحابہ یا سلف مہر زیادہ رکھتے تھے خواتین کا تو یہ ان کے سمجھنے کی غلطی ہے کیونکہ جب ان مرویات پر غور کیا جاتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ یا تو ان کی سند مقطوع ہے یا ضعیف ہے یا صحیح حدیث کے متن سے متعارض ہے یا قرآن کے متواترہ اصول کے خلاف ہے اور وہ عمر رضی اللہ عنہ کی اس روایت سے استدلال کرتے ہیں کہ مجالد بن سعید سے روایت ہے وہ شعبی سے روایت کرتے ہیں کہ عمر بن الخطاب نے لوگوں کو خطبہ دیا اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر فرمایا کہ عورتوں کے مہر میں زیادتی نہ کرو مجھے جو بات پہنچی ہے کہ سب سے مہر رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے دیا ہے تو ایک عورت نے اعتراض کیا یا امیر المومنین کیا کتاب اللہ حق ہے یا آپ کا قول آپ نے فرمایا بے شک کتاب لیکن مسئلہ کیا ہے ؟ اس عورت نے کہا کہ آپ لوگوں کو عورتوں کو زیادہ حق مہر دینے سے منع کرتے ہیں جب کہ اللہ تعالٰی کا فرمان ہے :» وَءَاتَيۡتُمۡ إِحۡدَىٰهُنَّ قِنطَارٗا فَلَا تَأۡخُذُواْ مِنۡهُ شَيۡ‍ًٔاۚ » اَ پہلی عورت کو بہت سا مال دے چکے ہو تو اس میں سے کچھ مت لینا۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا لوگوں کو مجھ سے زیادہ دین کی فقہ حاصل اور دو یا مرتبہ فرمائی پھر منبر پر گئے اور فرمایا کہ لوگو میں نے تمہیں عورتوں کا زیادہ مہر رکھنے سے منع کیا تھا تو اب میں کہتا ہوں کہ وہ اپنے مال میں سے جتنا مہر رکھنا چاہے رکھے.  یہ لوگ اس آیت سے استدلال کرتے ہیں کہ مہر کے اکثر کی کوئی حد نہیں ہے اور مہر زیادہ ہونا چاہیے لیکن ان لوگوں کو پتہ نہیں ہے کہ یہ واقعہ ثابت نہیں کیونکہ اس روایت کی سند میں دو علتیں ہیں :

1 : کہ یہ شعبی عمر رضی اللہ عنہ کو ملا ہی نہیں ہے تو کیسے روایت کر رہا ہے؟ کیونکہ یہ عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے چھ سال بعد پیدا ہوا ہے

2 : اور دوسرے راوی مجالد بن سعید کو بخاری، نسائی، دار قطنی، ابن معین، ابن عدی اور حافظ نے تقریب میں اس کو ضعیف قرار دیا ہے

اس کی سند میں نکارت ہے اور منکر سند ہے کیونکہ عورت کا اس آیت سے استدلال آیت کے اصل معنی کے مخالف ہے . قرطبی کہتے ہیں کہ علماء کی ایک جماعت نے کہا ہے اس آیت سے مہر میں غلو و زیادتی کا جواز نہیں نکلتا کیونکہ اس میں قنطار کو تمثیل کے طور پر بیان کیا گیا ہے اور مبالغہ کی جہت سے بیان کیا گیا ہے کہ تم انہیں کوئی قنطار خزانہ دیتے ہو جو تمہیں واپس لینا چاہیے یعنی تم انہیں خزانہ نہیں دیتے اور یہ آپ صل اللہ علیہ وسلم کے اس قول کی طرح ہے جس نے مسجد بنائی کبوتری کے گھونسلے جتنی بھی تو یہ بات معلوم ہے کہ مسجد کبوتری کے گھونسلے جتنی نہیں ہوتی

اور اسی طرح یہ روایت آپ صل اللہ علیہ وسلم کی ان صحیح احادیث کے بھی خلاف ہے جن میں آسان مہر کا کہا گیا ہے اور غلو و زیادتی سے منع کیا گیا ہے عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ نَظَرْتَ إِلَيْهَا؟ فَإِنَّ فِي عُيُونِ الْأَنْصَارِ شَيْئًا» قَالَ: قَدْ نَظَرْتُ إِلَيْهَا، قَالَ: «عَلَى كَمْ تَزَوَّجْتَهَا؟» قَالَ: عَلَى أَرْبَعِ أَوَاقٍ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَى أَرْبَعِ أَوَاقٍ؟ كَأَنَّمَا تَنْحِتُونَ الْفِضَّةَ مِنْ عُرْضِ هَذَا الْجَبَلِ.

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں ایک آدمی حاضر ہوا اور کہا : میں نے انصار کی ایک عورت سے نکاح کیا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے اس سے پوچھا :’’ کیا تم نے اسے دیکھا ہے ؟ کیونکہ انصار کی آنکھوں میں کچھ ہے ۔‘‘ اس نے جواب دیا : میں نے اسے دیکھا ہے ۔ آپ نے پوچھا :’’ کتنے مہر پر تم نے اِس سے نکاح کیا ہے ؟‘‘ اس نے جواب دیا : چار اوقیہ پر ۔ تو نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا :’’ چار اوقیہ چاندی پر ؟ گویا تم اس پہاڑ کے پہلو سے چاندی تراشتے ہو !

بلکہ عمر رضی اللہ عنہ بذات خود مہر میں زیادتی کرنے سے منع فرمایا ہے ابو عجفاء سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور فرمایا عورتوں کے مہر میں زیادتی و غلو نہ کرو کیونکہ یہ اگر دنیا عزت و کرامت یا اللہ کے ہاں تقوی کا باعث ہوتا تو آپ صل اللہ علیہ وسلم اس کے زیادہ حقدار تھے آپ صل اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں اور بیٹیوں کا بارہ اوقیہ سے زیادہ مہر مقرر نہیں کیا . تو واضح ہو گیا کہ اسلام حق مہر میں غلو و زیادتی سے منع کرتا ہے اور آسانی کی دعو

Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment