Skip to content Skip to sidebar Skip to footer

صدقہ دینے کے کچھ طریقوں کا بیان

ڈاکٹر محمد عبد العزیز خضر ازھری

اس میں کوئی شک نہیں کہ صدقہ دینا واجب ہے  اور اخلاقی احسان میں مستحب ہے، یہ ایمان کی دلیل ہے،  خرچ کرنے والے کا صدقہ دینا اور بخل اور کنجوسی سے دور ہونا اور دنیا کے خزانے کا مالک ہونا ہے، صدقے والی چیزوں کو نہیں چھپانا  اس میں امت کو اصلاح کا بہت اثر ہے،  اور لوگوں کی ضروریا ت کو پورا کرنا اور انہیں حرام سے دور کرنا صدقہ ہے، معاشرتی کفالت کو مضبوط کرنا ہے بھی،  اور دینی یا دنیوی رضاکارانہ منصوبوں کا قیام کرنا بھی،  اس کے علاوہ بھی بہت سی عظیم اچھائیاں ہیں جن کا احاطہ کرنا ممکن نہیں۔

صدقے کےعظیم  فضائل کتاب و سنت میں وارد ہیں، ان میں سے اللہ تعالیٰ کا قول ہے: “جو لوگ اﷲ کی راہ میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں ان کی مثال (اس) دانے کی سی ہے جس سے سات بالیاں اگیں (اور پھر) ہر بالی میں سو دانے ہوں (یعنی سات سو گنا اجر پاتے ہیں)، اور اﷲ جس کے لئے چاہتا ہے (اس سے بھی) اضافہ فرما دیتا ہے، اور اﷲ بڑی وسعت والا خوب جاننے والا ہےo” اس کے علاوہ بھی بہت سی آیات ہیں، صحیح بخاری میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “جس نے پاک کمائی میں سے ایک کھجور کے برابر صدقہ کیا (پاک کے علاوہ اللہ پاک قبول نہیں کرتا) اللہ تعالٰی اس کے دائیں ہاتھ کو قبول فرماتا ہے  اس لینے والے کا گزارا ہوتا ہے جس طرح تم میں سے چھوٹی بکری کو پالتا ہے یہاں تک کہ پہاڑ جتنا کیوں نا ہو، اس کے علاوہ بھی بہت سی احادیث ہیں۔ بہت سے لوگ اپنا مال اپنی کمائی اور اجرت سے بڑھ کر صدقہ اور خرچ کرتے ہیں جو اللہ پاک نے خرچ کرنے والوں کے بارے میں وعدہ کیا ہے تو انہیں اس میں کوئی مشکل نہیں ہوگی، لوگوں پر صدقے کی فضیلت اور ثواب چھپا نہیں ہوا،  لیکن اس معاملے میں مسئلہ کچھ غلط طریقوں میں ہے جو بہت زیادہ رائج ہیں،  کچھ بہت سے غلط طریقے بہت لوگوں سے چھپے ہوئے ہوتے ہیں، جو ہوسکتا ہے کبھی ان کے صدقے کا ثواب کم کردیں یا ثواب ہی ختم کردیں، ان بعض غلط طریقوں میں کچھ باتیں یہ ہیں:

  1. صدقہ دینے والا صدقہ اس طریقے سے دینا کہ وہ اپنی تعریف سنے اور اپنے حسن کی تعریف بھی سنے، اور یہ دکھاوا صدقے کا ثواب باطل کر دیتا ہے،  جبکہ اللہ تعالٰی نے اپنی کتاب میں اس بارے میں فرمایا ہے کہ: “اے ایمان والو! اپنے صدقات (بعد ازاں) احسان جتا کر اور دُکھ دے کر اس شخص کی طرح برباد نہ کر لیا کرو جو مال لوگوں کے دکھانے کے لئے خرچ کرتا ہے اور نہ اﷲ پر ایمان رکھتا ہے اور نہ روزِ قیامت پر،۔۔۔” آیت۔
  2. ان میں سے یہ بھی ہے کہ مال کو ایسی جگہ پر خرچ کرنا کہ تاکہ اس سے کسی منصب اور مرکز یا امارت تک پہنچ پائے،اور جب یہ اس کے حق میں نہ ہو تو کسی دوسرے کام یا فیلڈ میں حصہ لینے سے انکار کرتا ہے، کبھی دنیا میں ثواب لینے کی جلدی کرتا ہے،  اور کبھی تو جو چاہتا ہے وہ مل جاتا ہے اور کبھی نہیں بھی ملتا، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “اور جو شخص دنیا کا انعام چاہتا ہے ہم اسے اس میں سے دے دیتے ہیں، اور جو آخرت کا انعام چاہتا ہے ہم اسے اس میں سے دے دیتے ہیں، اور ہم عنقریب شکر گزاروں کو (خوب) صلہ دیں گے*”۔
  3. اس میں سے ایک یہ ہے اپنی زکات سے ہمدردی کرے ، مستحق کی چھان بین نا کرے،  پھر اسے اپنی غیر مستحق اپنے  اقرباء پر خرچ کرے تاکہ وہ اس کی تعریف کریں اور رضی بھی رہیں،  یا ان لوگوں پر خرچ کرے  جن سے فائدے کی امید ہے۔
  4. اسی میں سے یہ ہے صدقہ لینے والوں پر احسان کرنا، اور یہ حرام ہے، یہ غریبوں کے جذبات کو نقصان پہنچا ہے، اس  کے ساتھ کہ اس کا ثواب بھی نہیں ملتا، جس طرح پہلے نمبر والی غلطی میں آیت میں ہے، اے اللہ عیبوں سے در گزر فرما، اور ہمیں ہمارے دین کی سمجھ عطا فرما بیشک تو ہر چاہے پر قادر ہے۔
Spread the love
Show CommentsClose Comments

Leave a comment